
تحریر: سہیل دانش
چند روز پہلے کی بات ہے۔ وہ تو ہماری طرح چل پھر رہے تھے۔ زندگی کو توانائی عطا کررہے تھے۔ وہ محبت بھری باتیں، شعروشاعری کا چسکہ، وہ مسکراہٹیں، گفتگو کرتے تو یوں لگتا کہ سلگتی بھٹیوں سے نہ جانے کون کون سی چنگاریاں اُڑرہی ہیں اُنہوں نے صحافی، شاعر ادیب کی حیثیت سے خود کو ایک چمکتا دمکتا اسٹار ثابت کیا تھا، بے تحاشہ خوبصورت لکھتے تھے لیکن اُنہیں معلوم نہ تھا کہ وہ زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے ہیں۔ زندگی بھی کیا چیز ہے ہم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور قبر کے اندھیرے میں گم ہوجاتے ہیں۔ زندگی کی ہر چیز بے یقینی اور ادھوری ہوتی ہے ہاں رُوح ہوتی ہے جو غیر فانی ہے، یہ مرتی نہیں جسم کو چھوڑ کر کہیں چلی جاتی ہے۔ کیوں جاتی ہے اور کہاں جاتی ہے یہ کسی کو نہیں معلوم۔ راشد نور اُمید اور نوید کے ساتھ محو سفر تھے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ لیکن شاید اُنہیں معلوم نہ تھا کہ زندگی کتنی بے وفا ہے۔ اسی لئے تو وہ خوابوں کی ساری پوٹلیاں چھوڑ کر چلے گئے اُن کی شاعری گرانقدر اور دل نشین تھی۔ شخصیت میں محنت اور محبت کی مہک تھی اب وہ گزرگئے تو اُن کا حلقہ احباب افسردہ اور ویران ہوگیا۔ میں نے کبھی اُن کے چہرے پر کسی لئے غصہ اور نفرت نہیں دیکھی، زندگی بھر والہانہ پن سے اپنے شگفتہ وجود کا احساس دلاتے رہے۔ اُن کو جاننے والے، اُن کی شعروشاعری اور ادب کے مداح اُن کی کمی ہمیشہ محسوس کرتے رہیں گے۔ ایک موج تھی جو شعر و ادب کے دریا میں تحلیل ہوگئی، دُعا ہے اُن پر اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہو۔























