دیامر کے علاقے میں کلاؤڈ برسٹ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں پنجاب کے ضلع لودھراں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر میاں بیوی جاں بحق ہو گئے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق، جاں بحق جوڑے کے تین سالہ بیٹے کا تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا، جبکہ خاتون کے والد شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق، جاں بحق افراد کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کے 17 افراد سیر و تفریح کے لیے گلگت بلتستان گئے تھے۔ بدقسمتی سے یہ خاندان دیامر میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے کا شکار ہو گیا۔ خاندان کے باقی افراد محفوظ ہیں، اور جیسے ہی موسم بہتر ہوگا، میتوں اور زخمی افراد کو لودھراں منتقل کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق، متاثرہ خاندان سکردو سے واپس آرہا تھا کہ ان کی گاڑیاں بابوسر کے قریب تھک کے مقام پر آنے والے شدید سیلابی ریلے میں پھنس گئیں۔ ڈپٹی کمشنر دیامر، عطا الرحمان کے مطابق، کلاؤڈ برسٹ کے بعد شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے بابوسر ٹاپ کی سڑک 7 سے 8 کلومیٹر تک مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اندازاً 10 سے 15 گاڑیاں ریلے کی نذر ہو گئیں۔
اب تک تین افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ ایک بزرگ زخمی حالت میں ملا ہے جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی سی دیامر کے مطابق، قدرتی آفت کے نتیجے میں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔ مشینری متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہے اور کچھ مقامات پر کام کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ ناران کی سمت سے بھی بابوسر روڈ کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ متاثرہ افراد کو خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد صورت حال پر قابو پایا جائے۔























