خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں افسوسناک واقعات پیش آئے، جن میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ہری پور کے علاقے غازی بیراج میں سات بچے سیلابی ریلے میں پھنس گئے، جو صوابی سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ تربیلہ ڈیم کی سیر کے لیے آئے تھے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق، جب بچے پانی میں کھیل رہے تھے تو اچانک تیز بہاؤ والا ریلا آ گیا، جس کے نتیجے میں تمام بچے ڈوب گئے۔ تاہم بروقت اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے کشتیوں کے ذریعے تمام بچوں کو بحفاظت نکال لیا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق، بچوں کو پہلے ہی خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا، لیکن وہ اپنے چچا کے ساتھ دریا کے دوسرے کنارے چلے گئے تھے۔
دوسری جانب، مالم جبہ کے سیاحتی علاقے میں ندی پار کرتے ہوئے ایک خاتون اور بچے اچانک آنے والے ریلے کی زد میں آ گئے، جس میں دو بچے بہہ گئے۔ ان میں سے ایک بچے کی لاش نکال لی گئی ہے جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
مدین میں بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا جہاں ایک گھر ملبے تلے آ گیا۔ اس سانحے میں تین بچے جاں بحق جبکہ ان کی والدہ زخمی ہو گئی ہیں۔
لوئر دیر اور باجوڑ میں بھی طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے۔ لوئر دیر کے علاقے میں دو بھائی سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آ گئے، جن میں سے ایک کی لاش نکال لی گئی ہے، جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
دریائے پنجکوڑہ سمیت دیگر ندی نالوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ تیز بارشوں کے باعث رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جبکہ جی ٹی روڈ پر کئی مقامات پر ملبہ جمع ہے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
ملک بھر میں مون سون کے چوتھے اسپیل کے دوران شدید بارشوں نے زندگی کے معمولات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی شہروں میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں جبکہ متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی شدید بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسلام آباد کے علاقے سیدپور میں 184 ملی میٹر، گولڑہ میں 99 ملی میٹر، راولپنڈی میں 54 ملی میٹر اور چکلالہ میں 40 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، مزید بارشوں کا امکان ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔























