بین الاقوامی شہرت یافتہ بزنس مین گل محمد لاٹ پاکستان کی مخصوص سیاست سے بیزار

دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بننے والے بزنس مین گل محمد لاٹ پاکستان کی مخصوص طرز سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں سابق سینیٹر گل محمد لاٹ جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سرگرم سیاست میں حصہ لیا انہوں نے پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے والی سب سے سرکردہ شخصیت اور ادارے کی حیثیت سے پہچان بنائی ان کا ادارہ مہران فوڈز بین الاقوامی سطح پر مصالحہ جات کی ایکسپورٹ میں اپنا ثانی نہیں رکھتا بزنس اور سیاست میں انہوں نے اپنے والد اور خاندان کا نام روشن کیا سماجی شعبوں میں بڑھ چڑھ کر کام کیا اور عوامی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا پاکستان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے تھر میں ان کی سیاست اور خدمت سب جانتے ہیں گزشتہ دنوں سابق سینیٹر گل محمد لاٹ نے تھرپارکر کا دورہ کیا انہوں نے اسلام کوٹ اور مٹھی کے دیہاتی گاؤں اسلام کوٹ مبارک رند ساکریو سمیجہ سید جوتڑ ستے ڈیرہ جیئندو درس اور دیگر گاؤں میں تعزیتی اور عشائیہ میں شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے گل محمد لاٹ نے عوامی اجتماع سے کہا کہ موجودہ حکومت کو ملک بدترین معاشی بحران میں ملا تھا اور اب ملک کے معاشی حالات میں بہتری آرہی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مضبوط خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان کو کشمیر ایشو پر دنیا میں بہت پذیرائی ملی ہے اور کشمیرپر پاکستان کا کیس مضبوط ہوا ہے ۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں احتساب پہلے بھی چل رہا تھا مگر اب اس میں تیزی آئی ہے جو گرفتاریاں ہوئی ہیں اس پر افسوس ہے مگر آج کل ملک کی عدالتیں آزاد ہیں اگر کوئی بے گناہ نکلا تو انہیں عدالتوں سے انصاف ملے گا ان کا کہنا تھا کہ میرا 2015 سے کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رہا اس وقت میرے جیسے سیاسی کارکن کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے اور میری سیاست کے لئے اگر آنے والے وقت میں سیاست میں سازگار ماحول پیدا ہوا اپنے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد سیاسی فیصلہ کروں گا ان کا مزید کہنا تھا کہ میں کسی سیاسی جماعت پر تنقید نہیں کرنا چاہتا انہوں نے کہا کہ بارشوں کے بعد گھر میں قدرتی خوشحالی اور تھر باسیوں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے میری دعا ہے سر اور تھر باسی خوشحال رہیں



اپنا تبصرہ بھیجیں