کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی طبیعت پھر ناساز، طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر تنقید

سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی حالت ایک بار پھر کوٹ لکھپت جیل میں بگڑ گئی۔ وکیل رانا مدثر ایڈووکیٹ کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کو معدے کی شدید تکلیف اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے، اس کے باوجود انہیں ہسپتال سے جلد بازی میں واپس جیل بھیج دیا گیا۔

وکیل کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز انہیں زبردستی سروسز ہسپتال سے ڈسچارج کر کے بغیر اہلِ خانہ اور وکلا کو اطلاع دیے جیل منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق، ڈاکٹر یاسمین راشد کے کئی میڈیکل ٹیسٹ کیے گئے تھے، لیکن مکمل علاج مہیا نہیں کیا گیا، جو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی، معین ریاض قریشی نے اس صورتحال کو افسوسناک اور غیر انسانی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ضعیف العمر خاتون، سابق وزیر اور کینسر سے صحتیاب ہونے والی مریضہ کو مناسب علاج سے محروم کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو رات کے وقت سانس لینے میں دشواری کے باعث بی آئی پی اے پی مشین دی گئی، لیکن بجلی بند کر کے مشین کو غیر فعال کر دیا گیا، جس سے ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔

معین ریاض قریشی نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی انتقام کے تحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی صحت کو نقصان پہنچایا گیا تو حکومت کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر یاسمین کو فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کی زندگی کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔