بابوسر ٹاپ کے اطراف 7 سے 8 کلومیٹر کے علاقے میں شدید بارشوں کے بعد خطرناک لینڈسلائیڈنگ اور سیلابی صورت حال نے تباہی مچا دی۔ اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کی حدود میں سیاحوں کی متعدد گاڑیاں پانی کے ریلے میں بہہ گئیں، جس کے باعث کئی افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ کئی سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔
مختلف ذرائع کے مطابق تاحال 5 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 15 سے زائد سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودے گرنے کے سبب سیاحوں کے قافلے راستے میں پھنس گئے ہیں۔ مقامی باشندے اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ افراد کو ریسکیو کرنے میں مصروف ہیں۔
ترجمان حکومت گلگت بلتستان، فیض اللہ فراق کے مطابق گلگت اور دیامر کے علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے قراقرم ہائی وے اور چلاس-جلکھڈ روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لال پڑی، ڈونگ اور دیگر مقامات پر لینڈسلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے سیاح اور مسافر دونوں جانب محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر متحرک کر دی گئی ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالا جا سکے۔























