کڈنی پارک – ڈاکٹر سیف الرحمٰن کا کارنامہ

1974میں کراچی کی پہاڑیوں پر 2پارک بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ایک کا نام ہل پارک تھا جبکہ اس کے بالکل سامنے دوسری پہاڑی جو دور سے کڈنی کی شکل کی لگتی تھی، پر کڈنی پارک بننا تھا۔ درمیان میں شہید ملت روڈ پر پہلے پگڈنڈی نما 2سڑکیں تھیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ شہید ملت روڈ کی کشادہ سڑک میں تبدیل ہوتے ہوئے سروس لین بن چکی ہیں۔ جہاں اب گاڑیوں کا اژدھام رہتا ہے۔ نئے انڈر پاس بھی بن چکے ہیں۔ چاروں طرف گنجان آبادیاں وجود میں آچکی ہیں اور اونچی اونچی عمارتیں High Rise building بھی بن گئی ہیں۔ ہل پارک پر تو KMCنے جلد ہی پارک قائم کر دیا اور وہ آج بھی عوا م کے استعمال میں ہے مگر کڈنی پارک KMCکی غفلت کی وجہ سے ویران پڑا رہا۔ میری رہائش اس سے ملحق علاقے میں 1980سے ہے، ان 40سالوں میں اس طویل و عریض پہاڑی کا حصہ جو تقریباً 64ایکڑ ہے، پر کئی مرتبہ قبضہ گروپوں نے قابض ہونے کی کوششیں کیں۔ 1979میں یہ ایک سوسائٹی کو راتوں رات الاٹ کر دی گئی۔ اس پہاڑی کے اطراف چونکہ پکی آبادیاں بن چکی تھیں لہٰذا ان کے مکینوں نے اس زمین پر عملی قبضہ نہیں ہونے دیا۔ البتہ اس سوسائٹی جس کے بانی ایک بڑے سیاستدان تھے، آزادانہ پلاٹ بیچتے رہے۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ لاپروائی سے دیکھتے رہے۔ پھر ضیاء الحق کے دور میں ایک مارشل لا آرڈیننس آیا جس کے تحت تمام باغات اور پارکوں کی زمین نہ منتقل کرنے کی اجازت تھی اور نہ فروخت کی۔

لہٰذا ہزاروں الاٹیز رُل گئے، چونکہ سوسائٹی کے بانی بہت طاقتور تھے، عوام دھکے کھاتے رہے اور ایک پیسہ بھی ان کو نہ ملا۔ آہستہ آہستہ معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر چائنا کٹنگ کا دور آیا دوبارہ کڈنی پارک کی طرف اجنبیوں کی آمد شروع ہوئی، مکینوں کے کان کھڑے ہوئے۔ سپریم کورٹ تک معاملہ جا پہنچا، سپریم کورٹ نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور اس طرح 20سال گزر گئے۔ اس دوران وہاں شہر کا کچرا پھینکا جاتا رہا اور چھوٹی موٹی تجاوزات بھی بنتی رہیں۔ کیکر اور جنگلی درخت، پودے اگتے رہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں اچانک اس پہاڑی کے اردگرد ٹریکٹروں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ مکین پھر چونکے یا اللہ اب کون چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔ دن رات ٹریکٹروں کی گونج اور خاک مٹی کی وجہ سے نیندوں میں خلل آنے لگا۔ معلوم ہوا کہ اب باضابطہ KMCنے سپریم کورٹ کے حکم پر اس کڈنی پارک پر پارک بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور میٹرو پولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمٰن کی تحویل میں دے دیا ہے۔ ان کی نگرانی میں یہ پروجیکٹ جلد از جلدمکمل کیا جائے گا۔ اتفاق سے ڈاکٹر صاحب پہلے ڈی سی ایسٹ رہ چکے تھے۔ اپنے دور میں انہوں نے تقریباً تمام چورنگیاں، فٹ پاتھ ہمارے ادارے کے تعاون سے تعمیر کروائے تھے۔ پڑھے لکھے ایماندار افسران میں ان کا شمار ہوتا ہے لہٰذا ہم سب مکینوں نے سکھ کا سانس لیا۔ میں روز اپنی چھت سے اس پارک کی تعمیر دیکھتا رہا، صرف 6ماہ میں ایک خوبصورت پارک بن گیا۔ گزشتہ ہفتے میں نے ڈاکٹر صاحب کو فون کرکے پارک کے بارے میں جاننا چاہا تو انہوں نے فوراً ہامی بھر لی، حالانکہ میں نے اتوار کو یعنی چھٹی کے دن فون کیا تھا۔ صبح صبح وہ مجھے اپنی گاڑی میں پارک کا دورہ کرانے لے گئے اور تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ میں دنگ رہ گیا جب انہوں نے بتایاکہ اس 64ایکڑ ویران پارک پر حکومت سندھ کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا بلکہ مقامی ڈپارٹمنٹس نے اپنے اپنے ٹرک، اسکلیٹر، مشینریوں اور مالیوں کے ذریعے درخت، پودے لگائے اور سیوریج سسٹم بھی بنایا۔ دن رات کی محنت سے ہزاروں ٹن کچرا اسی زمین میں کھڈے کھود کر دفنا دیا گیا جو آئندہ کھاد کی شکل میں استعمال ہوتا رہے گا۔

تمام راستوں میں واکنگ ٹریکس بنائے گئے ہیں جہاں دونوں طرف ناریل، چیکو، نیم، لگن بیل، کھجور، امرود، جنگل جلیبی اور شہتوت الغرض دیگر صوبوں سے 35ہزار درخت منگوا کر لگائے جا چکے ہیں۔ دن رات ان کی دیکھ بھال کی گئی۔ سب سے زیادہ مورنگا کے درخت لگائے ہیں اور مزید درخت لگائے جائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب بےانتہا ذہین اور فرض شناس نیز بہت سی علمی ڈگریوں کے حامل ہیں۔ انتظامیہ میں ایسے ایماندار افسران اب آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ منصوبہ اپریل 2020تک ان شاء اللہ مکمل ہو جائے گا۔ یقین نہیں آتا یہ بنجر ترین خطہ صرف 8ماہ کی محنت سے ایک خوبصورت پارک میں تبدیل ہو گیا۔ ایسے ایماندار افسر کو حکومت کی طرف سے کم از کم ایک تمغہ تو ملنا چاہئے۔ ہمارے گورنر سندھ اور صدرِ پاکستان‘ جن کا تعلق اسی شہر سے ہے، کم از کم کڈنی پارک کا باقاعدہ افتتاح کرکے اس سخت جان افسر کی ہمت افزائی کریں تاکہ دوسروں کیلئے ایک مثال بنے اور ہمارے دیگر افسران بھی اسی طرح کراچی شہر کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنا دیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہمارے علاقے کے کوئی ایم این اے اس کا کریڈٹ نہ لے لیں اور کہیں کہ لو جی! ہم کراچی میں تبدیلی لے آئے ہیں۔ جاتے جاتے بتاتا چلوں کہ اگر آپ کڈنی پارک میں جائیں تو اس کی اونچائی سے آپ پورے کراچی شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایئر پورٹ پر اترتا اور چڑھتا جہاز بھی مع رن وے صاف نظر آتا ہے۔ اب سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کی زمین سے ایک ہفتے میں غیر قانونی تجاوزات ڈھانے کا حکم دیا ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
Written by Khalil Ahmed Nainitalwal published in jang

اپنا تبصرہ بھیجیں