ہم ٹی وی کے ڈرامے “پیارکے صدقے ” کے ٹریلرز نے ہی سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی

ہم ٹی وی کے ڈرامے “پیارکے صدقے ” کے ٹریلرز نے ہی سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی ۔ بلال عباس اور یمنہ زیدی کے ساتھ یشما گل اسکرین پر کچھ مختلف اور اچھے نظر آرہے تھے اور پھر ساتھ میں رائٹر”زنجبیل عاصم شاہ ” اور ڈائریکٹر فاروق رند کا نام۔۔

زنجبیل نے “ایک نظر میری طرف” لکھ کر بہت حیران کیا تھا کہ ایک بالکل نئ رائٹر اپنے پہلے ہی ڈرامے میں اتنا میچیور کیسے لکھ سکتی ہے۔ پھر “سات پردوں میں ” میں ان کی صلاحیت اور نکھر کر سامنے آئ ۔ عشق زہے نصیب میں جب لوگ زاہد احمد کے کردار کو نیا کہتے تھے تو اس وقت میرا یہی کہنا ہوتا تھا کہ یہ کردار تو کئ سال پہلے علی خان “سات پردوں میں ” نبھا چکے ہیں ۔ان دو بہترین اسکرپٹس کے بعد “بشر مومن ” نے زنجبیل کو ایک کمرشل رائٹر بنادیا۔ رائٹر ایک حد تک ہی اپنی مرضی کا کام کرسکتا ہے اس کے بعد اسے چینل اور پروڈکشن ہاؤسز میں بیٹھے ہوئے عالم فاضل کونٹینٹ والوں کی مرضی پر ہی چلنا ہوتا ہے جو اپنی مرضی سے کہانی لکھواتے ہیں اور صاف صاف کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں ہٹ ڈرامے جیسی کہانی چاہئے ۔۔
اسی لئے زنجبیل کے لکھے آخری ڈرامے “چیخ” نے ریٹنگ کی بلندی کو چھوا۔۔ بے شک وہ مشہورانڈین فلم “دامنی” کا مکمل عکس تھا لیکن ہمارے ناظرین نے چیخ کو بہت پسند کیا۔۔(میں نے چیخ کبھی مکمل نہیں دیکھا کیونکہ جہاں اس میں دامنی کے تقریباً سارے کردار ڈالے گئے, میرا اور سب کا فیورٹ سنی دیول کا کردار نہیں شامل کیا گیا، اگر تاریخ پر تاریخ کا تاریخی جملہ بولنے والے سنی دیول کا کردار اگر کوئ ادا کرلیتا تو میں تو لازماً چیخ کو مکمل دیکھتی۔۔)
اب کی بار زنجبیل عاصم شاہ لے کر آئ ہیں “پیار کے صدقے” جس کے ٹیزرز اور کہانی کی کچھ کچھ سمجھ آنے پر مجھے” یہ بھی” انڈین فلم “بیٹا ” کا الٹا ورژن لگ رہا تھا لیکن تین اقساط تک فی الحال ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا۔۔۔

ڈرامے کی کاسٹ اور پروڈکشن بہت اچھی ہے لیکن ہمارے ڈائریکٹر صرف اپنا کمفرٹ زون دیکھتے ہیں اور اپنے ہر ڈرامے میں ایک ہی لوکیشن پر شوٹ کرتے ہیں ۔ فاروق رند ان لوکیشنز کو اپنے ڈائریکٹ کئے ہوئے کئ ڈراموں میں استعمال کرچکے ہیں جس سے یکسانیت کا احساس ہوتا ہے ۔ بہرحال اگر آپ کا کونٹینٹ مضبوط ہو تو یہ سب پیچھے رہ جاتا ہے۔
پہلی قسط تقریباً ٹیزرز میں ہی پیش کی جاچکی تھی بس کردار اسٹیبلش ہوئے۔۔ یمنہ زیدی جو آجکل اپنی اداکاری سے ویسے ہی ناظرین کی فیورٹ بن چکی ہیں اس ڈرامے میں بھی اپنی معصوم شکل اور بے ساختہ اداکاری سے سب پر حاوی نظر آرہی ہیں۔ لیکن گورنمنٹ اسکول میں پڑھنے والی اور ایک معمولی منشی کی بیٹی گھر میں جو ڈریس پہن کر گھومتی ہے وہ ان کے بجٹ کے لحاظ سے کچھ زیادہ لگتا ہے۔(میری امی نے میرے اعتراض کرنے پر کہا کہ” کوئ بات نہیں یہ ڈانگری لنڈے سے خریدی ہوگی” ۔ 😂) لیکن یمنہ کی ایکٹنگ اور جملوں نے بہت انٹرٹین کیا۔۔اس دور کے روتے دھوتے ڈراموں میں فی الحال یہ ڈرامہ کچھ مختلف ہے جو ابھی تک تو سب کو ہنسا رہا ہے۔ کم از کم اس میں وہ ہیرؤئن نہیں دکھائ گئ جو پڑھائ میں بھی بہت اچھی ہے اور گھر کے کاموں میں بہت سگھڑ۔۔ بلکہ یہ ایک عام لڑکی ہے جو ہماری ہیرؤئنز کی طرح Jack of all ہرگز نہیں ہے۔

عتیقہ اوڈھو کے گھر کی کہانی میں بھی کئ رنگ ہیں۔عمیررانا کا کردار حقیقت کی عکاسی کررہا ہے کہ ہماری سوسائٹی میں بے جوڑ شادیوں کا یہی حال ہوتا ہے۔۔اب بات ہو کہ عتیقہ اوڈھو کی بیٹی جو کہ عبداللہ سے چھوٹی ہے وہ کیوں اتنی سمجھدار ہے جس نے انتہائ کم عمری میں سرور(عمیررانا) کی باتیں سن لی تھیں جبکہ عبداللہ کیوں اتنا بیوقوف ہے۔۔ تو اس کا لوجک بھی سیدھا ہے کہ لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ حساس ہوتی ہیں اور دوسرا سرور نے لڑکے کو اپنے لئے خطرے کی گھنٹی سمجھا اور اس پر اپنا کنٹرول رکھنے پر زیادہ فوکس کیا اس لیے دونوں بہن بھائ میں بہت زیادہ فرق ہے۔
کہیں کہیں یمنہ بہت سے بھی زیادہ معصوم دکھائ گئ ہیں جو ہر ایک کے سامنے سب کچھ بول دیتی ہے لیکن ڈرامے کا سارا مزہ ہی ماہ جبین کی معصومیت میں ہے ۔ڈاکٹر کا رشتہ، منگنی اور منگنی کے بعد فون پر گفتگو اور پھر سہیلیوں کو منگنی کی خبر دینے کی ایکسائٹمنٹ عام لڑکی والی ہی ہے۔
بلال عباس بھی بہترین پرفارمنس دے رہے ہیں اور اپنے آپ کو ورسٹائل ایکٹر کہلوانے کے لئے محنت کررہے ہیں۔چیخ میں نیگیٹو کردار کے بعد اب معصوم عبداللہ کا کردار ان کے کیرئر کے لئے اہم ہے ۔
کہانی کے باقی ٹریک اپنی اپنی جگہ چل رہے ہیں جس میں یشما گل کا کیریکٹر اور باقی کیریکٹرز شامل ہیں ۔ اب جیسے کہ ٹیزرز سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبداللہ اور ماہ جبین کی شادی ہوگی اور اس پر سرور کا کیا ری ایکشن ہوگا اس کے لئے انتظار کرنا ہوگا “پیارکے صدقے” کی اگلی اقساط کا۔
writer-Uzma-Razzak

اپنا تبصرہ بھیجیں