پاکستان میں اپوزیشن کی چھ جماعتوں نے تحفظ آئین پاکستان کے نام سے نئی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اگلے ماہ لاہور، اسلام آباد میں اجتماع اور 23مارچ کو کراچی میں جلسہ ہوگا

جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما اکرام خان درانی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی آج بھی قائم ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو ہم نے نہیں چھوڑا انہوں نے فاصلہ بڑھایا ہے۔

جمعے کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کامشاورتی اجلاس جمعیت علماء اسلام کے رہنما اکرم درانی کی رہائش گاہ پرمنعقد ہوا جس میں جے یو پی کی جانب سے ڈاکٹر جاوید، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مولانا عتیق الرحمن، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ، قومی وطن پارٹی کے عدنان وزیر و دیگر نے شرکت کی۔

مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی کواجلاس میں نہیں بلایا گیا تھا۔

اجلاس کے بعد اکرم درانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ”مولانا فضل الرحمن کے گھر چھ جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس ہوا تھا اس اجلاس کے بعد یہ اجلاس بلایا گیا ہے، ہماری نئی تحریک کا نام تحفظ آئین پاکستان ہوگا۔“

انہوں نے کہا چھ جماعتوں کی تفصیلی مشاورت ہوئی ہے ہم نے انیس مارچ کو تحفظ آئین پاکستان کے نام سے بڑے جلسے کا اعلان کرتے ہیں یکم مارچ کو کنونشن سنٹر اسلام آبادمیں بڑا اجتماع کریں گے۔

اکرم درانی نے کہا تمام مکاتب فکرسمیت بارکونسلز کے عہدیداران صحافتی تنظیموں اور مزدوروں کی تنظیموں کو بلائیں گے، حکمرانی آئین کے مطابق ہو تو ہر ادارہ درست کام کرتا ہے مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت کا احاطہ بھی کنونش میں کیا جائے گا آئین پاکستان کے ساتھ مہنگائی بیروزگاری اور دیگر معاملات بھی ہوگی دعوت نامہ 6 جماعتوں کے طرف سے جاری ہوگااس کے بعد 23 مارچ کراچی میں بڑا جلسہ عام ہوگا کوشش ہے تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں جہاں آزادی اظہار کی آزادی ہو اب جاندار اور شاندار تحریک سامنے آئے گی جس میں ملک کا بچہ بچہ شریک ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو ہم نے نہیں چھوڑا انہوں نے فاصلہ بڑھایا ہے میڈیا کے ذریعے ناراضگی کا اظہار کیا لیکن کوئی معقول رابطہ انہوں نے نہیں کیا ہر جماعت کے ایسے افراد کو دعوت دیں گے جو آئین کی بالادستی کیلئے کام کرتے ہوں سیاست میں کبھی راستے بند نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہاکہ ن لیگ کا پلیٹ فارم پارلیمان کے اندر ہے پارلیمنٹ میں کون ن لیگ کا ساتھ دے گا یہ فیصلہ پارلیمانی لیڈرز کریں گے، رہبر کمیٹی کے غیر فعال ارکان آج یہاں موجود نہیں، رہبر کمیٹی آج بھی قائم ہے بس تین جماعتیں ساتھ نہیں، پنجاب نے آزادی مارچ میں مولانا کا بھرپور استقبال کیا تھا پنجاب کے استقبال کو دیکھتے ہوئے نئی تحریک کا آغاز پنجاب سے کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں