ہا لانگ بے کشتی حادثہ: خراب موسم اور لاپرواہی نے 38 جانیں نگل لیں

ویتنام کے مشہور سیاحتی مقام ہا لانگ بے میں ہفتے کے روز ایک افسوسناک کشتی حادثے میں کم از کم 38 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حادثے کے وقت کشتی پر 48 مسافر اور 5 عملے کے ارکان سوار تھے۔

حادثے سے محفوظ رہنے والے ایک مسافر ڈانگ انہ توان نے بتایا کہ انہوں نے خراب موسم اور بارش کے باعث عملے سے کشتی واپس ساحل کی جانب موڑنے کی اپیل کی، تاہم عملے نے تسلی دی کہ منزل قریب ہے اور سفر جاری رکھا۔

36 سالہ ڈانگ انہ توان، جو فائر سیفٹی آلات کے سیلز مین ہیں، نے بتایا کہ “تقریباً 15 منٹ تک بارش جاری رہی، پھر کشتی تیزی سے ڈولنے لگی، میزیں اور کرسیاں اِدھر اُدھر گرنے لگیں، اور چند ہی لمحوں میں کشتی اُلٹ گئی۔”

انہوں نے مزید بتایا: “کشتی میں پانی بھرنے لگا، میں نے جیکٹ اتاری، نیچے غوطہ لگایا اور روشنی کا پیچھا کرتے ہوئے باہر نکل آیا۔”
توان اور کچھ دیگر افراد نے اُلٹی کشتی سے چمٹ کر اپنی جانیں بچائیں۔ وہ تقریباً دو گھنٹے تک شدید بارش میں مدد کے منتظر رہے۔

ویتنامی نیوز پورٹل وی این ایکسپریس کے مطابق، ریسکیو ٹیموں نے 11 افراد کو زندہ نکالا، جن میں سے ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ ایک 14 سالہ لڑکے کو چار گھنٹے بعد کشتی سے زندہ نکالا گیا، جسے معجزاتی بچاؤ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ تیز ہوائیں اور خراب موسم تھے۔ بیشتر متاثرہ افراد کا تعلق ہنوئی سے تھا اور ان میں تقریباً 20 بچے بھی شامل تھے۔

سرکاری اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ واقعے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ واقعہ ملک میں سیاحتی سلامتی کے ضوابط اور موسمی خطرات کو نظر انداز کرنے پر کئی سوالات اٹھا رہا ہے۔