پاکستان کی سیاست میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور بلاول ہاؤس کا کردار!!!!


نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر قربانی، مزاحمت، تدبر، اور حکمت عملی کی کوئی علامت سمجھی جاتی ہے تو اس میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) اور اس کے قائدین کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ خاص طور پر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے لے کر صدر آصف علی زرداری اور اب بلاول بھٹو زرداری تک کا سفر پاکستان کی جمہوری جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔
27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان ایک گہرے سیاسی، قومی، اور جذباتی بحران میں داخل ہو گیا۔ اس موقع پر آصف علی زرداری کا نعرہ ’’پاکستان کھپے‘‘ نہ صرف سیاسی بصیرت کا مظہر تھا بلکہ یہ پاکستان کو ایک اور سانحہ سے بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا جملہ بن گیا۔

> “پاکستان کھپے” — ایک نعرہ، ایک پیغام، ایک پالیسی،

آصف علی زرداری کو مخالفین جتنا بھی تنقید کا نشانہ بنائیں، لیکن پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار انکار کے قابل نہیں۔ انہوں نےاپنی اہلیہ کی شہادت کے بعد پارٹی کو ٹوٹنے سے بچایا،2008 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد پارٹی کو اقتدار میں لائے،پہلی بار ایک جمہوری صدر کے طور پر 2008 سے 2013 تک اپنی آئینی مدت مکمل کی۔
18ویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات پارلیمان کو واپس کیے،بلوچستان پیکج، اٹھارہویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے تاریخی اقدامات متعارف کروائے،سیاسی بصیرت اور برداشت کی علامت آصف علی زرداری کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے11 سال جیل کاٹنے کے باوجود نظام کو لپیٹنے کی کوشش نہیں کی،سیاسی مخالفین کے ساتھ مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیافوج، عدلیہ اور اپوزیشن کے ساتھ سیاسی توازن برقرار رکھا،شیخ رشید جیسے مخالف رہنما بھی ان کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں
> “زرداری کی سیاست سمجھنے کے لیے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے”
جبکہ پاکستان میں جدید صحافت کے بانی بابا صحافت روزنامہ نوائے وقت کے معمار مجید نظامی جیسے سینئر صحافی نے انہیں “مرد حر” کا لقب دے کر ان کی قیادت کو سراہا۔
کراچی میں واقع بلاول ہاؤس صرف ایک گھر نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملیوں کا مرکز بھی ہے یہاں پارٹی کی اندرونی مشاورتیں ہوتی ہیں،اہم فیصلے کیے جاتے ہیںانتخابی حکمت عملیاں

تیار ہوتی ہیں ملک بھر سے کارکنوں کو حوصلہ ملتا ہے۔
یہاں سے نکلی پالیسیوں نے کراچی، سندھ اور وفاق کی سیاست پر اثرات مرتب کیے ہیں۔آج بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کا سیاسی سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے مگر وہ
قومی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرکے خوب نام کما چکے ہیں بالخصوص مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی تاریخی فتح اور مودی کے خطے میں منفی کردار کو جس طرح انہوں نے

عالمی سطح پر اجاگر کیا اس سے انہوں نے اپنے شہید نانا ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی شہید والدہ بے نظیر بھٹو کی یاد تازہ کرا دی بلاول بھٹو نوجوانوں میں مقبولیت رکھتے ہیں،شدت پسندی، انسانی حقوق اور جمہوریت پر کھل کر بات کرتے ہیں،بلاول ہاؤس ایک نئی سیاسی سوچ کا مرکز بن چکا ہے جہاں تجربہ (زرداری) اور جوان جذبہ (بلاول) یکجا ہو کر پاکستان

کے سیاسی منظرنامے میں ایک متوازن قوت بن رہے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے بہت کم رہنما گزرے ہیں جو قید و بند، تنقید، سانحات اور سازشوں کے باوجود مضبوط، باوقار اور سیاسی طور پر متوازن رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرتے رہے ہوں۔ آصف علی زرداری کا کردار، خواہ کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے، پاکستان کی جمہوریت کے ارتقاء میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے