عدم اعتماد کے بعد وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی پہلی بار آمنے سامنے آئے

پبلک سیفٹی کمیشن کے اجلاس میں سندھ کابینہ کے عدم اعتماد کے بعد پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی کلیم امام آمنے سامنے ہوئے۔
ضلعی کمیشن کے قیام کے لیے 5 ممبران پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی جس میں تین اراکین صوبائی اسمبلی اور دو آزاد ممبران کرامت علی اور حاجی ناظم شامل ہیں۔ کمیٹی ضلعی کمیشن کے قواعد و ضوابط پر غور کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں پبلک سیفٹی کمیشن کے اجلاس میں آئی جی پولیس سندھ ڈاکٹر کلیم امام اور وزیراعلیٰ سندھ عدم اعتماد کے بعد پہلی بار آمنے سامنے آئے۔

آئی جی کو ہٹانے کا معاملہ بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھا لیکن پبلک سیفٹی کمیشن کے آزاد رکن کرامت علی تحریری درخواست دے کر ایجنڈے سے دستبردار ہوگئے۔
اجلاس میں آئی جی کلیم امام نے 23 اعلیٰ پولیس افسران کیخلاف کارروائی سے متعلق رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ گریڈ 21 کے غلام سرور جمالی کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی جبکہ راؤ انوار کے خلاف انکوائری رپورٹ 2018 میں چیف سیکریٹری کو بھیجی تھی، اس کے علاوہ ایس ایس پی سطح کے جاوید بلوچ، اعجاز ہاشمی، طاہر نورانی، اظفر مہیسر اور دیگر افسران کے خلاف انکوائری رپورٹس ارسال کی جاچکی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس آزادانہ کام کرے، ہماری کوئی مداخلت نہیں ہے، کراچی 2013 میں کرائم انڈیکس میں چھٹے اور ساتویں نمبر پر تھا اور اب ترانوے نمبر پر آگیا ہے، امن وامان بہتر کرنے میں عوام کی مدد اور حکومت کا عزم شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں