کچھوے کے گوشت سے کرونا وائرس کا علاج

بیجنگ: چین کی روایتی طب کے تحت کچھوے کے گوشت سے کروناوائرس کا علاج بھی ممکن ہے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک جانب حکومت جنگلی جانورں کو کروناوائرس کی افزائش قرار دے رہی ہے وہیں چینی طب نے کچھوے کو شفا بخش قرار دیتے ہوئے اس کے گوشت کو کرونا سے بچنے کے لیے مفید قرار دیا ہے۔
ووہان میں قائم کیے گئے کروناوائرس اسپتال میں مریض کچھوے کا گوشت کھاتے ہوئے بھی دیکھے گئے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کرونا کے متاثرہ مریض ٹرے میں موجود کچوے کا گوشت کھا رہے ہیں۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ ’پنگولین‘ ہوسکتا ہے، ماہرین کا انکشاف

چینی روایتی طب کے مطابق کچھوے کا گوشت بیمار افراد کے لیے بھی مفید ہوتا ہے جبکہ اس کو کھانے سے کروناوائرس سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ جدید طبی ماہرین اگر گوشت پر تحقیق کریں تو کئی امراض کے علاج کی دریافت ممکن ہے۔
دوسری جانب چینی سائنس دانوں نے مطالعے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس بالواسطہ پینگولین کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا اور پھر یہ ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوا۔
ماہرین نے مختلف جانوروں کے 1000 نمونوں کی جانچ پڑتال کے بعد انکشاف کیا کہ پینگولین میں پایا جانے والا وائرس، کرونا وائرس سے 99 فی صد مماثلت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں