پنجاب میں مون سون کے شدید سلسلے نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 54 افراد جان سے گئے جبکہ پوٹھوہار کے علاقے میں تقریباً ایک ہزار سے زائد شہریوں کو سیلابی پانی سے بچا کر محفوظ جگہوں پر منتقل کیا گیا ہے۔ مون سون کی چوتھی لہر 21 جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کے مطابق چکوال، جہلم اور راولپنڈی میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے رین ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، اور ریسکیو آپریشنز میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ فوجی دستے بھی شریک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پوٹھوہار ریجن میں سیلابی پانی میں پھنسے تقریباً 1000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
جہلم میں 398 افراد کو ریسکیو کیا گیا جن میں سے 174 کو ضلعی انتظامیہ، 64 کو فوجی دستوں نے نکالا، اور 160 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ جگہوں پر پہنچایا گیا۔ چکوال میں کلاڈ برسٹ کے باعث سیلابی پانی میں پھنسے 209 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جن میں سے 27 افراد کو ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کیا گیا۔ راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ نے 450 افراد کو بچایا، جبکہ نالہ لئی سے 6 شہریوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ کیا گیا۔
عرفان علی نے شہریوں کو مون سون بارشوں کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کی بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ میں تربیلا اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب، کالا باغ پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دریائے راوی، چناب، جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔
ڈیرہ غازی خان میں رود کوہیوں کا پانی بھی معمول کے مطابق ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 47 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم میں 79 فیصد ہے۔ بھارتی ڈیمز جو ستلج، بیاس اور راوی پر واقع ہیں، ان میں پانی کی سطح 36 فیصد ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ اضلاع کو ہنگامی صورتحال کے لیے چوکنا رہنے کی ہدایت کی ہے اور شہریوں سے کہا ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی میں ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو آپریشنز میں انتظامیہ اور پاک فوج نے بھرپور تعاون کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آزاد کشمیر، مشرقی پنجاب، پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا کے چند علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ اگلے 24 گھنٹوں میں جنوبی بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ جنوب مشرقی سندھ میں بھی چند جگہوں پر بارش متوقع ہے۔
لاہور میں بھی مون سون کی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کی توقع ہے۔ شہر میں خشک موسم کی وجہ سے گرمی اور حبس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت 28 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ متوقع بارش کے پیش نظر واسا، ایل ڈبلیو ایم سی، بلدیہ عظمیٰ اور محکمہ ہاؤسنگ کے عملے کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایم ڈی واسا غفران احمد نے ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران نکاس آب کے لیے تمام عملہ فیلڈ میں موجود رہے۔























