
مسرور احمد مسرور
===============
آبادی میں اضافے کے ساتھ مسائل میں اضافہ ہونا بڑا سبب ہے
کینیڈا خوش ترین ممالک میں جرمنی، برطا نیہ اور امر یکہ سے آگے ہے

کینیڈا ایک بڑا اور خوب صورت خوشحال ملک ہے یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک خوشیوں کا گہوارا ہے۔ یہاں غربت کی لکیر سے نیچے کا کوئی تصور بہ ظاہر تو نظر نہیں آتا، کوئی غریب ، کوئی فقیر دکھائی نہیں دیتا، یہاں انگریز، مسلم اور سکھ کمیونٹی کے لوگوں کے علاوہ دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ بہترین کوالٹی آف لائف کو انجوائے کر رہے ہیں اور خوش نظر آتے ہیں، کسی کو بجلی اور گیس کے بلوں کی ٹینشن نہیں ہے، کوئی یہاں پینے کے پانی کے لیے مارا مارا نہیں پھر رہا، سب اپنے کام سے کام اور محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہر شخص اپنا کام کرتا ہے، کسی دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتا، ٹریفک کے اصولوں پر سختی سے کاربند نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ایک منظم سسٹم کو فالو کرتے ہیں۔ نہ کوئی لڑائی نہ کوئی جھگڑا، نہ کوئی چوری، نہ کوئی ڈکیتی۔ صبح جلد اٹھنے کا اصول اپنائے ہوئے ہیں، سر شام بستر میں دبک جاتے ہیں، صحت کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط نظر آتے ہیں۔ باقاعدگی سے واک کرتے ہوئے اور بھاگتے دوڑتے دکھائی دیتے ہیں، کھانے پینے کی چیزوں کا استعمال بھی باقاعدہ کیلوریز دیکھ کر کرتے ہیں اور ایک اچھی بات یہ ہے کہ یہاں بازار میں کھانے پینے کی چیزوں پر کیلوریز اور دوسرے اجزا Nutrition Facts کے عنوان کے تحت درج ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کی طرح نہیں، جو ملا کھا لیا۔ صحت عامہ کے حوالے سے نہ حکومت کو کوئی پرواہ ہے

نہ خود لوگوں کو۔ ہر چیز کا ایک طے شدہ اصول ہے جس پر عمل پیرا ہو کر زندگی بسر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ خوش حالی کا سبب بنتی ہے۔ یہاں رہنے والوں کا یہ ماننا ہے کہ خوش رہیں اور سکھ سے رہیں۔ یہاں زمین بہت زیادہ خالی پڑی نظر آتی ہے، کسی نے شاید مذاقاً ہی کہا ہو کہ اس میں پانچ پاکستان سما جائیں۔ بہرحال ہماری لینڈ مافیا یہاں کی خالی پڑی زمین دیکھ لے تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں درخت دیکھ کر بھی ان کا دل ضرور للچانے لگے گا کیوں کہ وہاں تو کوئی درخت کاٹنے سے شاید ہی بچا ہو۔ یہاں اگر ایک درخت کوئی غلطی سے کاٹ لے تو اسے کروڑوں روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ شکر ہے کہ کینیڈا مافیا سے پاک ملک ہے۔ کینیڈا شروع سے ایک خوش حال ترین شہر رہا ہے۔ 2015 میں خوش حال ترین ممالک کی درجہ بندی میں اسے پانچویں پوزیشن حاصل تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں تنزلی کا شکار ہوتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ 2023 میں کینیڈا اس فہرست میں 13 ویں نمبر پر آ گیا،

2024 میں پندرہویں اور پھر 2025 میں آ کر اٹھارہویں پوزیشن پر آگیا۔ اس تنزلی کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ ایک تو یہ کہ دس سال پہلے آبادی کم تھی اور دس سال میں آبادی کا جو اضافہ ہوا اس کی وجہ سے مسائل میں بھی اضافہ ہوا۔ ہر طرح کے معاملات میں ایک دباؤ کی کیفیت پیدا ہوئی۔ پریشانیوں میں اضافہ ہوا، خوشیوں میں کمی واقع ہوئی۔ خوش حال ترین ممالک کی درجہ بندی میں جو عوامل کارفرما ہوتے ہیں ان کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ فی کس آمدنی میں کینیڈا کی رینکنگ 16 ویں پوزیشن پر آ گئی، کرپشن کے حوالے سے 15 ویں نمبر پر آگیا۔ سماجی امداد میں 35 ویں پوزیشن اور ذاتی آزادی میں 68 واں نمبر آ گیا۔
30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں میں خوشی کا عنصر بہت کم ہے جب کہ بزرگ شہریوں میں خوشی کی سطح کہیں زیادہ ہے۔ کینیڈا تو 18 ویں پوزیشن پر ہے لیکن جرمنی 22 نمبر پر، برطانیہ 23 ویں پوزیشن پر اور امریکا 24 ویں پوزیشن پر کھڑا ہے۔
آبادی میں اضافے کے بعد رہائشی مکانات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور کرایوں کا بحران نوجوانوں میں دباؤ اور پریشانیوں کا سبب بنتا ہے۔ تنخواہوں میں جمود، تعلیمی اخراجات اور قرض کے مسائل سماجی تعلقات میں کمی بھی بڑی وجہ ہو سکتی ہیں ۔ کینیڈا اب بھی ترقی یافتہ ممالک میں سب سے خوش ترین ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن نوجوان نسل کی گرتی ہوئی خوشی اور معاشی دباؤ جیسے عوامل قومی خوشی کو متاثر کرتے ہیں۔























