شان اور بابر کی سنچریاں، پاکستان کو 109 رنز کی برتری

بنگلہ دیش کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر شان مسعود اور بابر اعظم کی سنچریوں کی بدولت 342 رنز بنا لیے ہیں۔
یوں پاکستان نے پہلی اننگز میں بنگلہ دیش پر 109 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے جبکہ اس کی سات وکٹیں ابھی باقی ہیں۔
پاکستانی اوپنر شان مسعود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11 چوکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے، یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی تیسری سنچری تھی۔
شان مسعود کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 17 چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کی اور وہ 143 رنز کے ساتھ تاحال کریز پر موجود ہیں۔ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی چوتھی سنچری ہے۔
بابر اعظم کے ساتھ کریز پر موجود اسد شقیق نے بھی عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 60 رنز بنا لیے ہیں۔
پاکستان نے اب تک تین وکٹیں کھوئی ہیں۔ گذشتہ میچوں میں بڑی اننگز کھیلنے والے پاکستانی اوپنر عابد علی پاکستان کے آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے۔ وہ گراؤنڈ میں آئے تو کریز پر زیادہ دیر کھڑے نہ رہ سکے اور بغیر کوئی رن بنانے ابوزیاد کی گیند پر لٹن داس کو کیچ تھما کر پویلین لوٹ گئے۔پاکستان کو دوسرا نقصان کپتان اظہر علی کی وکٹ کا اٹھانا پڑا جو 34 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی وکٹ بھی ابو زیاد کے حصے میں آئی۔ اظہر علی کے بعد شان مسعود بھی 100 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔

قبل ازیں ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل میں واضح دکھائی دیا تھا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران ٹیسٹ میچوں میں تین بار اننگز کی شکست کا سامنا کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں مشکلات کا شکار ہے۔
جمعے کو 13 برس بعد میزبان پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کے لیے میدان میں اترنے والے بنگلہ دیشی کرکٹرز خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔پاکستانی ٹیسٹ کپتان اظہر علی نے ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو میزبان ٹیم 82.5 اوورز میں 233 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ محمد متھون کے 63 لٹن داس کے 33 نجم الحسین شانتو کے 44 رنز کے علاوہ کوئی بنگلہ دیشی بلے باز پاکستانی بولرز کی مزاحمت نہ کر سکا۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 21.5 اوورز میں 53 رنز کی کفایتی بولنگ کی اور چار وکٹیں حاصل کیں۔ محمد عباس نے 17 اوورز میں 2 وکٹیں لیں، انہوں نے نو میڈن اوورز کرائے۔ غیرمستقل بولر کے طور پر آزمائے گئے حارث سہیل پاکستانی ٹیم کے لیے اچھا اضافہ رہے۔ انہوں نے چھ اوورز میں 11 رنز دیے اور دو میڈن اوورز کرا کے دو وکٹیں بھی حاصل کیں۔ نسیم شاہ نے ایک وکٹ لی جب کہ سپنر یاسر شاہ 22 اوورز میں 83 دے کر بھی کوئی وکٹ نہ لے سکے۔

پاکستان نے سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم کو میدان میں اتارا ہے جب کہ بنگلہ دیشی سائیڈ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے سیف حسن سمیت دیگر کھلاڑیوں پر بھروسے کے باوجود بڑا سکور نہ سجا سکی۔سینتیسویں اوورز میں 220 گیندوں پر ٹیم کا مجموعی سکور 100 کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کو 200 کے ہندسے تک پہنچنے کے لیے 451 گیندیں کھیلنا پڑیں۔ پہلے اوور میں ہی وکٹ کھونے والی میزبان ٹیم صرف تین نصف سنچری شراکتیں قائم کر سکی تھی۔
پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر کی گئی پریس کانفرنس میں بیٹنگ کارکردگی اور ممکنہ حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے نجم الحسن شانتو کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم توقع سے کم سکور پر آؤٹ ہوئی تاہم وہ پاکستانی وکٹیں جلد حاصل کر کے میچ میں واپس آ سکتے ہیں۔میچ سے قبل پاکستانی کپتان اظہر علی نے کہا تھا کہ راولپنڈی کے ٹیسٹ میچز نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں ٹیسٹ سیریز کے ہر میچ کو اہم سمجھ کر کھیلیں گے۔
پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش ٹیسٹ کے لیے کیے گئے انتظامات پر شائقین اور ملحقہ علاقوں کے مکین نسبتا مطمئن دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا صارفین نے راستوں کو کھلا رکھنے کی کاوش پر انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔پنڈی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم
پاکستان کی پلیئنگ الیون میں شان مسعود (اوپنر)، عابد علی (اوپنر)،اظہر علی (کپتان) بابر اعظم، حارث سہیل، اسد شفیق، محمد رضوان (وکٹ کیپر) ، یاسر شاہ (سپنر)، محمد عباس (فاسٹ بولر)، شاہین شاہ آفریدی (فاسٹ بولر) اور نسیم شاہ (فاسٹ بولر) شامل ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں