چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو

اعتصام الحق
تیسری چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو 16 جولائی کو بیجنگ میں شروع ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور چین کے نائب چینی وزیر اعظم حہ لی فنگ نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
چین عالمی صنعتی اور سپلائی چین میں ایک اہم کڑی ہے، اور عالمی صنعتی اور سپلائی چین کے مستحکم آپریشن کو یقینی بنانے ،متعلقہ تعاون کو گہرا کرنے اور عالمی اقتصادی بحالی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے.پانچ روزہ ایکسپو کے دوران ایک سو سے زائد مصنوعات کے پہلی بار متعارف ہونے کے امکانات ہیں جو پچھلی ایکسپو کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔ اس سال کی سپلائی چین ایکسپو میں غیر ملکی نمائش کنندگان کا تناسب 35 فیصد ہے، جس میں یورپی اور امریکی نمائش کنندگان غیر ملکی نمائش کنندگان کی کل تعداد کا 50 فیصد ہیں۔ ایکسپو میں ، “گلوبل سپلائی چین پروموشن رپورٹ” بھی جاری کی گئی اور سپلائی چین کے چار اہم انڈیکس میٹرکس پہلی بار جاری کیے گئے ۔رپورٹ میں گزشتہ سال عالمی سپلائی چین کے پروموشن سسٹم کی تازہ ترین صورتحال کا منظم انداز میں تجزیہ کیا گیا اور عالمی سپلائی چین کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے چین کی جانب سے دیے گئے اہم طریقوں اور مواقعوں کا خلاصہ کیا گیا . گلوبل سپلائی چین انڈیکس میٹرکس سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی سپلائی چین کی مجموعی ترقی اب نسبتاً مستحکم ہے ۔ 2018 سے 2024 تک ، گلوبل سپلائی چین انڈیکس میٹرکس میں شامل پروموشن ، کنکشن ، جدت طرازی اور لچک پر مشتمل چار انڈیکس میں اضافہ ہوا ہے ۔۔
چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم ہے جو سپلائی چین مینجمنٹ، لاجسٹکس اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے کے لیے وقف ہے۔ یہ ایکسپو ہر سال چین کے مختلف شہروں میں منعقد ہوتی ہے اور دنیا بھر سے تاجروں، صنعتکاروں، ماہرین اور پالیسی ساز ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ۔ اس ایکسپو کا بنیادی مقصد عالمی سپلائی چینز کو مزید موثر، شفاف اور جدید بنانا ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں نئے رجحانات، ٹیکنالوجیز اور کاروباری مواقعوں پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
2025 میں ہونے والی چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو بیجنگ میں منعقد ہو ئی ہے ۔یہ شہر پہلے ہی ایک اہم عالمی مرکز کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس سال کے ایونٹ کا مرکزی خیال “انٹیلیجنٹ سپلائی چینز فار سسٹینیبل ڈولپمنٹ ” ہے، جس نے مصنوعی ذہانت، بلاک چین، اور آٹومیشن جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے سپلائی چینز کو مزید پائیدار اور موثر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے ۔اس میں شرکت کرنے والے ممالک اور کمپنیز نے اپنے جدید حل اور اختراعات پیش کیں ، جن کا مقصد عالمی تجارتی چیلنجز کا مقابلہ کرنا اور معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
2025 کے ایکسپو میں تقریباً 150 سے زائد ممالک اور خطوں کی نمائندگی دیکھی گئی ، جس میں 3000 سے زیادہ نمائش کنندہ اور 50 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی ۔ اس کے علاوہ، متعدد بین الاقوامی تنظیمیں اور تجارتی اداروں نے بھی اس میں حصہ لیا ، جن میں عالمی بنک، عالمی تجارتی ادارہ ڈبلیو ٹی او اور اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیاں شامل ہیں۔ یہ ایکسپو نہ صرف کاروباری روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ عالمی سپلائی چین کے حوالے سے نئی پالیسیوں اور معاہدوں کی وجہ بھی بنتی ہے ۔
اس سال کے ایکسپو میں کئی اہم سیشنز اور فورمز کا اہتمام کیا گیا ، جن میں سپلائی چین ڈیجیٹلائزیشن، گرین لاجسٹکس اور عالمی تجارت میں خواتین کا کردار جیسے اہم موضوعات شامل رہے ۔ ایک خصوصی سیشن “پوسٹ پینڈیمک سپلائی چین ریکوری” پر بھی ہوا ، جس میں کووڈ-19 کے بعد کی دنیا میں سپلائی چینز کو مزید لچکدار بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا ۔ اس کے علاوہ، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیز نے اپنے جدید سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر حل پیش کئے ، جو سپلائی چین مینجمنٹ کو زیادہ شفاف اور کم خرچ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو 2025 میں جدید ٹیکنالوجی کے مظاہرے بھی اہم رہے ۔ مثال کے طور پر، روبوٹکس اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے اسمارٹ ویئر ہاؤسنگ کے نظام دکھائے گئے جو انوینٹری مینجمنٹ کو خودکار بناتے ہیں۔ اسی طرح، بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارمز کی نمائش کی گئی ، جو سپلائی چین کے ہر مرحلے کو محفوظ اور قابل اعتماد بناتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز نہ صرف کاروباری عمل کو تیز کریں گی بلکہ دھوکہ دہی اور وسائل کے ضیاع کو بھی کم کریں گی۔
ایکسپو کا ایک اور اہم پہلو بی ٹو بی اور بی ٹو سی میٹنگز ہیں ، جہاں کمپنیز اپنے ممکنہ شراکت داروں اور گاہکوں سے روبرو مل سکیں۔ چین کی حکومت کی اس کوشش میں متعدد معاہدے اور مفاہمتی یاداشتیں پیش کی جاتی ہیں اور ان پر دستخط ہوتے ہیں جو عالمی تجارت کو نئی راہیں فراہم کرتے ہیں ۔ خاص طور پر، “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو سے منسلک ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا جاتا ہے ۔
چینی حکومت نے 2025 کے ایکسپو کو کامیاب بنانے کے لیے خصوصی اقدامات بھی اختایر کئے تھے جن میں شرکت کرنے والوں کے لیے ویزہ آسان بنانا، جدید ترین نمائشی ہالز کی تعمیر، اور شنگھائی میں ٹرانسپورٹ اور رہائش کی سہولیات کو بہتر بنانا شامل تھا ۔ اس کے علاوہ، ایکسپو کے دوران ماحول دوست اقدامات پر بھی توجہ دی گئی جیسے کہ ری سائیکلنگ کے نظام کو فروغ دینا اور کاربن اخراج کو کم کرنا۔
چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو 2025 نہ صرف ایک تجارتی میلہ رہا بلکہ یہ عالمی معیشت کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ ایونٹ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ باہمی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سپلائی چینز کو زیادہ موثر اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں شرکت کرنے والے تمام ممالک اور کمپنیز نئے رجحانات سے آگاہ ہوتے ہیں اور اپنے کاروباری نیٹ ورکس کو وسعت دیتے ہیں ۔ اگرچہ یہ ایکسپو صرف چند دنوں تک جاری رہتی ہے لیکن اس کے اثرات طویل مدتی ہوتے ہیں جو عالمی تجارت اور سپلائی چین مینجمنٹ کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔