
کراچی میں موسلادھار بارش؟ بڑی پیشین گوئی | سینئر ماہر موسمیات کا بڑا بیان | بریکنگ نیوز
کراچی میں موسلادھار بارش؟ بڑی پیشین گوئی | سینئر ماہر موسمیات کا بڑا بیان | بریکنگ نیوز
Heavy rain in Karachi?| big Prediction | Senior Meteorologist Big Statement | Breaking News
=======================
طوفانی بارشوں کے بعد پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ، 24 گھنٹے میں درجنوں اموات
پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، راولپنڈی میں 15 گھنٹے میں 230 ملی میٹر بارش برسنے پر ندی نالے بپھر گئے، نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر سائرن بجادیے گئے جبکہ پاک فوج گوالمنڈی پل پہنچ گئی، وزیراعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد 423 ملی میٹر بارش برسنے پر ڈیم کا بند ٹوٹ گیا، 24 گھنٹے میں حادثات و واقعات میں درجنوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق راولپنڈی انتظامیہ نے جمعرات کے روز شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر وہاں سے لوگوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے، جڑواں شہروں میں مسلسل 15 گھنٹے سے زائد وقت تک موسلا دھار بارش ہوتی رہی، جس کے باعث مختلف علاقے زیرِ آب آ گئے۔
ترجمان واسا راولپنڈی کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، جو کٹاریاں کے مقام پر 21 فٹ اور گوالمنڈی کے مقام پر 20 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ جڑواں شہروں میں اب تک 230 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
صورتحال کے پیشِ نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی گھروں سے نکلیں، انہوں نے شہریوں سے واسا، راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں سے مکمل تعاون کی اپیل کی اور انہیں خبردار کیا کہ نشیبی علاقوں میں پانی کے قریب جانے سے گریز کریں۔
شدید بارش کے باعث مری روڈ کے متعدد مقامات کمیٹی چوک انڈرپاس، مری چوک، بنی چوک، جامع مسجد روڈ، اقبال روڈ اور دیگر سڑکوں پرٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں سیدپور گاؤں میں 132 ملی میٹر، گولڑہ (ای-11 کے قریب) میں 164 ملی میٹر، بوکرا (سی ٹی ٹی آئی، آئی-12) میں 185 ملی میٹر، پی ایم ڈی (ایچ-8/2) میں 152 ملی میٹر، اور شمس آباد میں 158 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔
راولپنڈی میں کچہری (چکلالہ کے قریب) میں 235 ملی میٹر، پیرودھائی میں 196 ملی میٹر، گوالمنڈی میں 220 ملی میٹر اور نیو کٹاریاں میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
نالہ لئی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجادیے گئے ہیں جبکہ پاک فوج نالہ لئی کی صورتحال کا جائزہ لینے گوالمنڈی پل پہنچ گئی، نالہ لئی کے اطراف کی مساجد سے اعلانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
راولپنڈی کنٹونمنٹ اور چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے نالہ کی صفائی نہ ہونے پر بارشی پانی گھروں میں داخل ہوگیا، بحریہ ٹاون فیز8 میں نالے کا پانی سڑکوں پرآگیا، راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارشوں سے موٹروے بھی زیر آب آگئی، موٹر وے پر موجود شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
راولپنڈی میں نیو چاکرا، ٹینچ بھاٹہ اور جان کالونی میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جان کالونی کے رہائشیوں نے امدادی ٹیموں سے مدد کی اپیل کر دی، گرجا روڈ اور محلہ قریشی میں بھی پانی کا زور ٹوٹ نہ سکا۔محلہ قریشی آباد کے متعدد گھر زیرِ آب آگئے،ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کردی گئیں۔
راولپنڈی میں چکری روڈ لادیاں گاؤں میں پھنسی فیملی کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا، ہیلی کاپٹر چھت پر پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنے کے لیے بجھوایا گیا، فیملی کو ریسکیو کرنے کے لیے جانے والی ریسکیو ٹیم کی ناکامی پر ہیلی کاپٹر بھجوایا گیا۔
’راول ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 747 فٹ تک پہنچ چکی‘
ادھر، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، جبکہ راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔
ترجمان نے بتایا کہ راول ڈیم میں زیادہ سے زیادہ پانی کی سطح ایک ہزار 752 فٹ ہے، جبکہ راول ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح ایک ہزار 747 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔
مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے راول ڈیم میں پانی کی سطح کی مانیٹرنگ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ کردی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر راولپنڈی سمیت پنجاب کے شدید بارشوں، سیلاب اور طغیانی کی لپیٹ میں آئے علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو سمیت دیگر تمام ادارے عوام کو سیلابی صورتحال سے بچانے کے لیے پورے صوبے میں متحرک ہوگئے، کشتیوں کے ذریعے عوام کی مدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ سرکاری ادارے جذبے اور انتہائی محنت سے کام کر رہے ہیں، انتظامیہ کو عوام کو بزریعہ سائرن اور اعلانات آگاہ رکھنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، عوام اداروں سے تعاون کریں، حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
راولپنڈی میں بارش کے بعد سیلابی صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، اجلاس میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا، وزیراعظم نے چیف کمشنر راولپنڈی اور ایم ڈی واسا سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔
24 گھنٹے میں 63 افراد جاں بحق، 290 زخمی
پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مون سون بارشوں کے باعث صوبے بھر میں 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہوئے ہیں۔
جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ لاہور میں 15، فیصل آباد میں 9، ساہیوال میں 5، پاکپتن میں 3 اور اوکاڑہ میں 9 افراد ہلاک ہوئے، ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
پنجاب ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق، جہلم میں ڈھوک بڈار، ڈھوک شاہ عارف، سوہاوہ، رسولپور، چک محمد اور بھمپر دیہات میں سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک پاک فوج کی مدد سے 57 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، جب کہ جہلم میں جاری کارروائیوں میں 50 سے زائد ریسکیو کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ریسکیو ٹیمیں پنجاب بھر میں مختلف اضلاع میانوالی، راولپنڈی، چکوال، اٹک، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، راجن پور اور لیہ میں تعینات کی گئی ہیں۔ صوبے بھر میں 15ہزار سے زائد ریسکیو اہلکار اور 800 ریسکیو کشتیاں ہائی الرٹ پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان اور ریسکیو ٹیمیں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب میں بھر میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات و واقعات میں 23 افراد جاں بحق ہوگئے۔
چکوال میں 10 گھنٹے میں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ
چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث طوفانی بارش ہوئی جبکہ 10 گھنٹے کے دوران423 ملی میٹر بارش سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔
شری کٹاس راج کا مقدس تالاب بھی سیلاب کی زد میں آ گیا، چکوال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، پنوال ڈیم کا بند ٹوٹنے سے بھٹہ خشت کا علاقہ زیر آب آگیا ۔
ضلعی انتظامیہ چکوال کے مطابق سیلابی پانی میں پھنسے 35 خاندان محفوظ مقامات پر منتقل کردیے گئے ہیں، چکوال میں مسلسل بارشوں سے 8ڈیم اور 15پل ٹوٹنےسےتباہی پھیلی۔
انتظامیہ کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیوں میں پولیس اور سول سوسائٹی حصہ لے رہی ہے جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنےکےلیے پاک فوج کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔
منڈی بہاؤالدین شہر میں بھی 210 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں تالاب میں بدل گئی تھیں، وہالی زیر میں 351، چوآسیدن شاہ میں330ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اگلے 12 گھنٹے میں آندھی اور طوفان کے ساتھ شدید بارش کا امکان
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) نے اگلے 24 گھنٹے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث شہروں میں سیلابی صورتحال جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کردیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے اضلاع لاہور، چکوال، اٹک، جہلم، خوشاب، میں شدید بارش کا امکان ہے جبکہ سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور حافظ آباد میں اگلے 12 گھنٹوں میں آندھی اور طوفان کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔
جڑواں شہروں میں بھی 24 سے 48 گھنٹے تک وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش جاری رہنے کا امکان ہے، موسلادھار بارش کے باعث نالہ لئی میں ممکنہ طغیانی اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا امکان ہے، این ڈی ایم اے نے عوام سے احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے پنجاب بھر میں آج بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریاؤں کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی ہے، پی ڈی ایم اے نے صوبائی کنٹرول روم سمیت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو الرٹ جاری کردیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق آج لاہور ،راولپنڈی، فیصل آباد ،گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، اٹک، چکوال، جہلم، مری، گلیات، میانوالی، نارووال، گجرات، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، منڈی بہاالدین اور ڈی جی خان میں تیز بارشیں متوقع ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے جبکہ طوفانی بارش سے مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
جہلم میں شدید بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی، سیلابی صورتحال
جہلم میں شدید بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال ہے، سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔
دوسری جانب ضلع اٹک کے علاقے فتح جنگ میں شاہ پور ڈیم کے سپل وے سے پانی کا اخراج جاری ہے ، ڈپٹی کمشنر اٹک،ڈسٹرکٹ ایمرجینسی آفیسر و دیگر حکام نے ڈیم کا دورہ کیا۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ عوام الناس نشیبی علاقوں میں جانے سےگریز کریں۔























