مون سون کی حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ملک کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 83 لاکھ ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ کے باعث اسپیل ویز کھول دیے گئے ہیں تاکہ اضافی پانی کا بہاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
ارسا کے مطابق، منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1186 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جب کہ اس کی مکمل گنجائش 1242 فٹ ہے۔ چشمہ بیراج میں پانی کی سطح 648 فٹ تک جا پہنچی ہے، جہاں مزید صرف ایک فٹ کی گنجائش باقی ہے۔ ترجمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ڈیمز کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، تاہم شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب، پنجاب بھر میں کئی روز سے جاری شدید بارشوں نے معمولاتِ زندگی متاثر کر رکھے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ راولپنڈی میں 15 گھنٹوں میں 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں نالہ لئی کی سطح 18 فٹ تک بلند ہو گئی — جبکہ اس کی خطرناک حد 20 فٹ ہے۔
چکوال میں کلاوڈ برسٹ کے نتیجے میں شدید بارش نے تباہی مچائی، جہاں صرف 10 گھنٹوں کے دوران 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ منڈی بہاؤالدین میں بھی 210 ملی میٹر بارش کے بعد شہر کی گلیاں اور سڑکیں پانی سے بھر گئیں۔ ان حالات کے پیش نظر پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آج بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ شہریوں کو احتیاط برتنے اور متعلقہ اداروں سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔























