
نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاست کی ترقی کے بلند بانگ دعوے، اسپتالوں کی عمارتوں پر کروڑوں کے فنڈز، لیکن حقیقت؟ معصوم ارمان جیسے بچےجو صرف اپنی ماں کی عیادت کے لیے اسپتال آتے ہیں، عزت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
یہ ہے سول اسپتال کراچی کا اصل اور مکروہ چہرہ — جہاں نہ لفٹس محفوظ ہیں نہ مریض، نہ ان کے تیماردار اور نہ ہی معصوم بچوں کی عزتیں!
14 سالہ ارمان صرف وارڈ تک جا رہا تھا مگر لفٹ آپریٹر عبدالوحید نے 100 روپے کا لالچ دے کر اسے تیسری منزل پر لے جا کر بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
پولیس سرجن نے زیادتی کی تصدیق کر دی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ زخم صرف جسم پر نہیں، پورے معاشرے پر لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک “انفرادی واقعہ” ہے؟ یا یہ اس بوسیدہ اور بدبودار نظام کی نشانی ہے جس میں ایک سرکاری ملازم جو تنخواہ عوام کے ٹیکسوں سے لیتا ہے انہی کے بچوں کی عزت کو روند دیتا ہے،ریاست کب تک اندھے، بہرے اور گونگے حکمرانوں کے سہارے چلے گی؟
ہمارے اسپتال جرائم گاہ بنتے جارہے ہیں چار میں سے تین لفٹس بند تھیں — وہ بھی بغیر وجہ کے،سی سی ٹی وی کی فوٹیج دستیاب نہیں۔
اسپتال میں سکیورٹی نام کی کوئی چیز نہیں۔
جس کا دل کرے، جیسے چاہے، جہاں چاہے — انسانیت کا جنازہ نکال دے۔اگر ایک لفٹ آپریٹر جیسے نچلے درجے کے ملازم کے ہاتھ میں بھی معصوموں کی عزتیں غیرمحفوظ ہوں تو سوچئے کہ ڈاکٹرز جو مریضوں کی جانوں کے مالک ہیں،
پولیس جو انصاف کی پہلی دیوار ہے،بیوروکریٹس جو نظام چلاتے ہیں،اساتذہ جو نسلیں بناتے ہیں ۔ان سب کا سالانہ میڈیکل اور نفسیاتی معائنہ کیوں نہیں ہوتا؟کیوں نہ ہر سرکاری ملازم کو ایک باقاعدہ نفسیاتی کلئیرنس سرٹیفکیٹ کے بغیر نوکری سے دور رکھا جائے،عوام کی خاموشی، آنے والے سانحات کی ضمانت،اگر آج ہم چپ رہے تو کل یہ لفٹ کسی اور بچے، کسی اور ماں، کسی اور باپ کے لیے قبر بن سکتی ہے۔
عبدالوحید کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کر کے مثالی سزا دی جائے۔
سول اسپتال میں سکیورٹی اور سی سی ٹی وی نظام کی مکمل اصلاح ہو۔ تمام سرکاری اداروں میں ملازمین کا سالانہ نفسیاتی و میڈیکل ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے اسپتالوں، اسکولوں، اور دیگر عوامی مقامات پر چائلڈ پروٹیکشن افسران تعینات کیے جائیں۔یہ کوئی عام واقعہ نہیں، یہ ریاست کی اجتماعی ناکامی ہے۔اگر زندہ قوم ہیں تو انصاف صرف ارمان کے لیے نہیں، ہر اس بچے کے لیے مانگنا ہوگا جو نظام کی ہوس کی بھینٹ چڑھتا ہے۔
> “خاموشی جرم ہے… اور جرم کے خلاف بولنا پہلا انصاف!”























