ملک کے مختلف حصوں میں مسلسل اور شدید بارشوں کے باعث ڈیمز میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک بلند ہو چکی ہے، جس کے باعث سپل ویز کھولے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ خاص طور پر منگلا ڈیم پر دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے بڑھ کر 4 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک جا سکتا ہے، جس سے شدید سیلاب کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
راول ڈیم اپنی مکمل گنجائش (1752 ایکڑ فٹ) تک بھر چکا ہے، اور اس کے سپل ویز کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ عوام سے بھی احتیاط برتنے اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔
اہم اعداد و شمار:
تربیلا ڈیم: پانی کی آمد 2,23,900 کیوسک، اخراج 1,97,600 کیوسک
منگلا ڈیم: آمد 37,900 کیوسک، اخراج 10,000 کیوسک
چشمہ بیراج: آمد 2,85,100 کیوسک، اخراج 2,14,800 کیوسک
گڈو بیراج: درمیانے درجے کا سیلاب، 24 گھنٹوں میں 10,000 کیوسک اضافہ
دریائے کابل (نوشہرہ): 35,000 کیوسک آمد و اخراج
دریائے چناب (ہیڈ مرالہ): آمد 73,500 کیوسک، اخراج 47,200 کیوسک
ذخیرہ شدہ پانی:
تربیلا: 46 لاکھ 3 ہزار ایکڑ فٹ
منگلا: 34 لاکھ 67 ہزار ایکڑ فٹ
چشمہ: 2 لاکھ 58 ہزار ایکڑ فٹ
مجموعی ذخیرہ: 83 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ
ترجمان واپڈا کے مطابق تمام اعداد و شمار گزشتہ 24 گھنٹے کے اوسط یا صبح 6 بجے کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر الرٹ رہنا اور حفاظتی اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہے۔























