کینیڈا جل رہا ہے کینیڈا کو جنگلاتی آگ لگنے کی شدید صورت حال کا سامنا ہے امریکا، فرانس، آسٹریلیا سے فائر فائٹرز طلب کر لیے گئے برٹش کولمبیا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ہنگامی فنڈ میں 1.2 بلین ڈالرز کی منظوری دی

مسرور احمد مسرور
=============


کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے مختلف شہروں میں گھوم پھر رہے ہیں، قدرتی حسن کی فیاضیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں غرض یہ کہ اپنے اس ٹرپ کو پوری طرح انجوائے کر رہے ہیں۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں سب بہت اچھا ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ سب کچھ اچھا نہیں ہے کیوں کہ اس خوب صورت ملک کو کئی طرح سے تشویش ناک حالات کا بھی سامنا ہے جن کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پائیدار، مستقل اور جارحانہ اقدامات کیے جانا بہت ضروری ہے ورنہ آنے والے مسائل ملک کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
کینیڈا میں جنگلاتی آگ لگنے کے واقعات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں جو مختلف طریقوں سے نقصان کا باعث بن رہے ہیں یہاں موسمیاتی تبدیلیاں بھی ایک تلخ حقیقت کا روپ دھارے اپنا منفی کردار ادا کر رہی ہیں اور طرح طرح کے بحران پیدا کر رہی ہیں۔
کینیڈا کے قدرتی حسن میں گھنے جنگلات اور اونچے اونچے درخت بھی اہمیت کے حامل ہیں لیکن دوسری طرف ان جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بہت تشویش ناک بتائے جاتے ہیں کینیڈا میں 2025 کی موجودہ جنگلاتی آگ اوسط سے کہیں زیادہ خطرناک رہی ہے جو ایک سنگین وارننگ ہے اب تک 3000 سے زیادہ جنگلاتی آگ کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے 51 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ علاقہ جل چکا ہے۔ یہ شرح پچھلے دس سال کی اوسط سے 2.7 گنا زیادہ ہے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے آگ لگنے کے واقعات کو روکنے کے لیے “National Preparedness Level 5″کا ادارہ پوری طرح چوکس ہے کیوں کہ انتہائی ایمرجنسی کی صورت حال ہے دوسرے ممالک جیسے نیوزی لینڈ ہے سے بھی فائر فائٹرز کی ٹیمیں مدد کے لیے آ چکی ہیں۔
کئی صوبوں میں آگ لگانے پر مکمل پابندی ہے۔ جنگلات کی آگ کا دھواں کینیڈا سے نکل کر امریکا خصوصاً منی سوٹا اور وسکونسن تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی فضا میں آلودگی کی سطح بہت غیر صحت بخش ہو چکی ہے، سانس کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کو دھوئیں سے بچنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ کم برف باری، جلدی برف پگھلنے، لمبے خشک موسم اور معمولی گرمی کی وجہ سے آگ بھڑکنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم آتش زدہ دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات معمول کی بات بن سکتے ہیں۔ ملک بھر میں آگ لگنے کے واقعات پر قابو پانے کے لیے نیشنل فائر کمانڈ سینٹر کو فعال کر دیا گیا ہے۔ حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کے لیے کینیڈین آرمی رینجرز اور فائر فائٹرز ملک بھر سے متاثرہ علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔


بین الاقوامی مدد بھی طلب کی گئی ہے جن میں امریکا، فرانس اور آسٹریلیا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ہنگامی فنڈ میں 1.2 بلین ڈالر کی منظور دے دی ہے۔
آگ لگنے کے واقعات نے نہ صرف جنگلات اور وائلڈ لائف کو تباہ کیا بلکہ ہزاروں شہریوں کو بھی نقل مکانی پر مجبور کیا، کئی اموات بھی ہوئیں اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ آگ نے دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوں کو بری طرح متاثر کیا۔ بارش کی کمی غیر معمولی درجہ حرارت اور بجلی گرنے کے واقعات نے حالات کو بدتر کر دیا ہے۔


آگ لگنے کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں وہ قدرتی بھی ہو سکتی ہیں اور انسانوں کی لاپرواہی کے سبب بھی۔ قدرتی وجوہات میں بجلی کا کڑکنا اور شدید طوفانی موسم میں بجلی کے گرنے سے آگ کا لگنا، اسی طرح جب بہت زیادہ گرمی اور خشکی ہو تو درخت اور پتے سوکھ جاتے ہیں اور معمولی چنگاری سے آگ پکڑ سکتے ہیں۔
انسانی وجوہات میں کیمپ فائر پارٹی BBQs کے دوران لوگ آگ جلاتے ہیں، اگر اس آگ کو مکمل طریقے سے بجھایا نہ جائے تو یہ آگ لگنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ جلی ہوئی سگریٹ کو زمین پر پھینک دینا عام اور خطرناک بات ہے، کوڑا کرکٹ جلانے یا بجلی کے تار گرنے سے بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
آگ لگنے کے واقعات سے جنگلات کے ساتھ ساتھ زرعی زمینیں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئی ہیں، فصلوں، جانوروں اور چراگاہوں کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔
سیاحت اور کھانے پینے کی مقامی صنعتوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ آگ لگنے کے واقعات کے حوالے سے موجودہ صورت حال میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ برٹش کولمبیا ہے۔ آگ کے واقعات 1260+ اور 2.1 ملین ہیکٹر تباہ شدہ البرٹا آگ کے واقعا ت890+ اور 1.4 ملین ہیکٹر تباہ شدہ رقبہ شمال مغربی علاقے آگ کے وا قعات 450+ اور 9 لاکھ ہیکٹر تباہ شدہ رقبہ ۔