میڈیا مالکان ملازمین کو بیروزگار نہ کریں، کوشش ہوگی کہ اسی مہینے تمام اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی ہوجائے : سید ناصر حسین شاہ

کراچی  : محکمہ اطلاعات حکومت سندھ کے جاری کردہ ہینڈآؤٹ کے مطابق صوبائی وزیر برائے اطلاعات ، بلدیات ، مذہبی امور، جنگلات و جنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت صحافیوں کے مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور یہ کہ حکومت ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے تحت پرنٹ میڈیا کے مسائل کے حوالے سے ہونے والے ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ جس طرح ان سے پہلے سابق وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے اخبارات کے مسائل کے حل کے لئے اپنی پرخلوص کاوشیں کی تھیں وہ بھی اسی طرح اخبارات سے وابستہ لوگوں کے مسائل کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ لوگوں سے گذارش کریں گے کہ وہ حکومت کے اچھے کاموں ، اچھی کارکردگی اور کارناموں کو بالکل اسی طرح سے نمایاں کرکے اپنے اخبارات میں بیان کریں جس طرح کے وہ ہماری ناکامیوں ، کمزوریوں ، غلطیوں یا کوتاہیوں کو نمایاں کرکے سرخیوں کی شکل میں اپنے اخبارات میں شائع کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر چہ کہ حکومت کو اس کے اچھے کاموں کی پذیرائی ملنی چاہئے یہ ایسا بہت کم کم ہوتا ہے۔ اس موقع پر سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا یہ ویثرن ہے کہ حکومت سندھ صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے ۔صوبائی وزیر نے کہا کے وہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے میڈیا مالکان سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ میڈیا سے وابستہ ملازمین کو بیروزگار نہ کریں ۔ اور مزیدیہ کہ وہ ان ملازمین کا خیال رکھیں۔ اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ا ے پی این ایس کے عہدیداران اس سلسلے میں ایک کمیٹی قائم کردیں اور یہ کہ اس کمیٹی کی جو بھی سفارشا ت ہوں گی ان پر سو فیصد عملدرآمد کیا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کبھی بھی پسند نا پسند کی بنیاد پر اشتہارات نہیں جاری کرتی ۔اخبارات کے واجبات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اسی مہینے تمام واجبات کی ادائیگی ہوجائے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزادی صحافت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ نہ صرف یے بلکہ پی پی پی کے ہر حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا ہے اور موجودہ دور میں بھی صحافت کی آزادی اور صحافیوں کی فلاح و بہبود سندھ حکومت کی ترجیح رہے گی۔اس سے پہلے اے پی این ایس کے سیکریٹری جنرل سرمد علی اور دیگر عہدیداران نے صوبائی وزیر اطلاعات کو صحافیوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔

دریں اثناءصوبائی وزیر اطلاعات سید ناصرحسین شاہ نے تجاوزات کو ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس سلسلے میں جو بھی احکامات ہیں ان پر من وعن عملدرآمد کیا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی بھی گھر یا عمارت گرانے سے پہلے اس کے مکینوں کی متبادل رہائش گاہ فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی آبادی اب پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔جس کی وجہ سے حکومت کو کئی مسائل کا سامنا ہے تاہم سپریم کورٹ کے احکامات حکومت کے لئے مددگار ثابت ہوں گے۔آئی جی سندھ پولیس کے تبادلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصرحسین شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بلاوجہ اس معاملے کو الجھا دیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے ایک مرتبہ پھر آئی جی پولیس سندھ کو مشورہ دیا کہ وہ چھٹی پر چلے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں میں اس طرح کے معاملات کو الجھایا نہیں جاتا مگر جب بات سندھ کی ہو تو رویے مختلف ہو جاتے ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ مسلسل سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کراچی میں جاری بہت سے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے وقت پر مکمل نہ ہونے کی بڑی وجہ وفاق کا اس سلسلے میں فنڈز جاری نہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وفاق نے سندھ کے 130 ارب روپیہ جاری کرنا ہے۔کرونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصرحسین شاہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں جناح سول اور آغا خان ہسپتال میں آئسولیشن وارڈز قائم کردیئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ باہر سے آنے والے لوگوں کی ہوائی اڈے پر اسکریننگ کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں