تھر اینگرو ماڈل ولیج۔

سندھ کول مائننگ کمپنی کے قیام کے وقت بہت سے گاؤں اس رقبہ ہر آرہے تھے جس پہ یہ منصوبہ بننا تھا۔ ایک طریقہ جو عموما رائج ہے ، وہ تو زبردستی قیمت دیکر یا ہتھیالینا یا قبضہ کرلینا اور دوسرا طریقہ جو شاذ ہے اور اسکو اینگرو نے بھی اپنایا اور وہ طریقہ ان لوگوں کو دوسری جگہ بسانا۔۔

جھگی بستیوں میں رہنے والوں کو پکے مکانات پہ مشتمل محلے بناکر دئے گئے، جس میں عبادت گاہیں (مسجد, مندر) پارک اور دیگر بنیادی ضروریات کی جگہیں شامل ہیں۔ کوشش کی گئی ان لوگوں اور راہائش کے انتقال میں مقامی تہذیب کا بھی انتقال کیا جائے۔ سوائے ان چیزوں کے جہاں ترقی کی ضرورت تھی، جیسے کہ کچے مکانوں کے بجائے پکے مکان دئیے گئے اور پچھلے گھروں میں بیت الخلاء نہیں تھے اور ان گھروں کے اندر بیت الخلاء تعمیر کروائے گئے۔ یہ کمپنی کی طرف سے ایک بہترین اور انسان دوست کاوش ہے ، اور اسکو یہ اور پھیلانا چاہ رہے ہیں۔
abdul-rehman

اپنا تبصرہ بھیجیں