
افغانستان کی کل آبادی اس سال کے ایک تخمینے کے مطابق 43,858,449 ہے جب کہ اس آبادی کی 49.51 فیصد خواتین پر مشتمل ہے
ڈاکٹر توصیف احمد خان
July 16, 2025
tauceeph gmail com
tauceeph@gmail.com
افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی پر عالمی اداروں نے بھی احتجاج شروع کردیا ہے۔ ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے افغانستان میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہ دینے اور روزگار کے حقوق نہ دینے کی ذمے داری طالبان حکومت کے قائدین پر عائد کی ہے۔
آئی سی سی کے ججوں کے سامنے افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق غصب کرنے کا مقدمہ پیش ہوا اور عالمی عدالت کے ججوں نے اس جرم کے ارتکاب پر افغانستان کے سپریم لیڈر ہبیت اﷲ اخوند زادہ اور افغانستان کے چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ عالمی عدالت کے اس فیصلے کے تحت یہ دونوں رہنما جب بھی افغانستان سے باہر کسی ملک جائیں گے تو متعلقہ حکومت عالمی عدالت کے اس فیصلے کے تحت ان رہنماؤں کی گرفتاری کی پابند ہوگی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کابل پر قابض طالبان حکومت Gender Based Persecution یعنی صنفی بنیاد پر جبرکی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
افغان حکومت کی اس پالیسی کے نتیجے میں خواتین کے بنیادی حقوق اور آزادی متاثر ہوئی ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی حکومت نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم کیا ہے بلکہ خواتین کی آزادی اور موومنٹ پر بھی سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین کی پرائیویسی کو ختم کیا ہے اور خواتین کی ذاتی زندگی میں مداخلت شروع کردی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔
عالمی عدالت نے اس فیصلے میں واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ 15 اگست 2021سے طالبان حکومت نے یہ پالیسی اختیارکی ہے اور اس پالیسی پر تاحال عمل درآمد ہو رہا ہے ۔ جس کے نتیجے میں افغانستان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ناروا سلوک کا معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تک پہنچ گیا۔7جولائی 2025کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منظور کی جانے والی جرمنی کی پیش کردہ قرارداد میں تمام حقوق سے محروم افغان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کے حق میں 116 ووٹ آئے۔
امریکا اور اسرائیل نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ اقوام متحدہ کے نیویارک میں قائم صدر دفتر سے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق 12 ممالک غیر حاضر رہے۔ پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ غیر حاضر ممالک میں بھارت بھی شامل تھا۔ اس قرارداد میں افغانستان میں تمام خواتین اور لڑکیوں پر منظم جبر پر سخت خدشات کا اظہارکیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں کہاگیا ہے کہ افغان حکومت ایک مربوط نظام کے تحت خواتین کو بنیادی حقوق سے محرو م کر رہی ہے۔
دونوں عالمی اداروں نے طالبان حکومت کے خلاف سخت فیصلے اور قراردادیں اس وقت منظور کی ہیں جب روس نے طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین بھی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر غورکر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں یہ خبریں بھی شایع ہوئیں کہ پاکستان نے افغان ناظم الامور کا درجہ بڑھا دیا ہے اور پاکستان کے وزیرخارجہ نے طالبان حکومت کے وزیر خارجہ سے مذاکرات کیے ہیں اور پاکستان نے قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کو پاکستان سے نکالنے کے لیے تاریخ بڑھا دی ہے۔
افغانستان کی کل آبادی اس سال کے ایک تخمینے کے مطابق 43,858,449 ہے جب کہ اس آبادی کی 49.51 فیصد خواتین پر مشتمل ہے۔ مگر جب سے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا ہے، نصف کے قریب آبادی کو تعلیم اور روزگار کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ جب 2021 میں طالبان نے دوبارہ کابل پر قبضہ کیا تو طالبان حکومت کے بارے میں مختلف نوعیت کے مفروضات عام تھے۔ جن لوگوں نے 90ء کی دہائی کے آخری عشرے میں طالبان حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ لیا تھا تو ان کی متفقہ رائے تھی کہ طالبان ایک رجعت پسند ذہن رکھتے ہیں، طالبان حکومت کی ماضی کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی مگر دائیں بازو کے بعض دانشور مسلسل اس بیانیے کا ابلاغ کرتے تھے کہ اب مغرب کے تعلیم یافتہ نوجوان طالبان قیادت میں شامل ہوگئے ہیں اور طالبان نے بعض نمایندوں سے کئی سال تک قطر میں امریکی حکام سے مذاکرات کیے اور ان مذاکرات میں ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کو اپنایا گیا ہے۔
اس بناء پر نئی حکومت خواتین کے بارے میں اپنے فرسودہ خیالات کے بجائے نئے دورکے تقاضوں کو اہمیت دی جائے گی۔ جب 2021میں طالبان حکومت نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تو پورے کابل اور شمالی علاقوں پر ان کا کنٹرول نہیں تھا۔ کابل سے ہر دوسرا شخص کسی طرح سرحد پار کرنے کا خواہش مند تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طالبان حکومت کے پہلے سال خواتین کے تمام اسکول،کالج کھل گئے۔ خواتین کو یونیورسٹی میں تعلیم اور پھر روزگارکی اجازت مل گئی۔ کابل پر قبضہ کرنے والے طالبان کمانڈر نے ایک خاتون اینکر کو انٹرویو بھی دیا تھا، پھرکچھ نئے قوانین نافذ کیے گئے۔
یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم پر پابندی لگا دی گئی، مگر لڑکیوں پر تعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابند ی عائد نہیں تھی۔ البتہ بعض ناقدین نے یہ لکھا کہ افغانستان میں کابل شوریٰ اور قندھار شوریٰ کے درمیان ایک نظریاتی کشمکش جاری ہے۔ ملا عمر کا آبائی شہر قندھار تھا۔ ملا عمر قندھار سے کابل حکومت چلاتے تھے، یوں اب قندھار شوریٰ کے دباؤ پر طالبان حکومت نے نئی پابندیاں لگانی شروع کردیں۔ طالبان حکومت نے کچھ عرصے بعد بعض ٹی وی چینلز کو بھی بند کردیا تھا۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ جیو پولیٹیکل صورتحال کی بناء پر طالبان کی حکومت کو چین اور روس سے امداد مل رہی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت بھی طالبان حکومت کی حامی ہے، بھارت نے بھی پاکستان سے تعلقات خراب ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کابل حکومت سے روابط قائم کیے ہیں جس کی بناء پر طالبان کی حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کو تقویت مل رہی ہے۔ روس، چین، بھارت کی حکومتوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایک رجعت پسند حکومت کو مضبوط کرنے کے مستقبل میں برے اثرات برآمد ہوںگے اور پورے خطے میں انتہا پسندی کو تقویت ملے گی۔پاکستان میں بھی جو طبقے طالبان حکومت کو مضبوط کرنے کی درپردہ کوشش کررہے ہیں، وہ بھی اپنے ملک کے مفادات کے برعکس کام رہے ہیں۔ تمام ممالک کو جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق طالبان حکومت کو خواتین کے تمام حقوق دینے تک تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔























