
نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر
اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا “اجرک ” ہماری قدیم ثقافت کی امین،اجرک سندھ کی پہچان مگر افسوس حکومت کے ایک غیر دانشمندانہ اقدام نے اجرک کو متنازعہ بنا کر رکھ دیا ہے حکومت سندھ کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر “اجرک ڈیزائن” والی نمبر پلیٹ کو لازمی قرار دینا کراچی کے شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے اس قانون کا نفاذ صرف کراچی میں ہوگا باقی صوبوں کے شہریوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا اس دہرے فیصلے کے نفاذ کے خلاف کراچی کے شہری سراپا احتجاج ہیں عوام کا کہنا ہے کہ اجرک ایک ثقافتی ورثہ ہے اس سے کسی کو اختلاف نہیں، مگر نمبر پلیٹ کا معاملہ انتظامی اور قانونی نوعیت کا ہے، جس میں ثقافتی ترجیحات کو زبردستی تھوپنا مسائل کو جنم دے رہا ہے۔
کراچی کے ساتھ ہی امتیازی سلوک کیوں کیا جاتا ہے یہ بڑا سوالیہ نشان ہے
شہری حلقوں کا سوال بجا ہے “اگر سندھ ایک ہے تو پھر یہ جرمانے، چالان اور گاڑیوں کی ضبطی صرف کراچی تک محدود کیوں؟ کشمور سے لے کر ٹھٹہ تک اس قانون کا یکساں اطلاق کیوں نہیں ہو رہا؟” کراچی میں یہ مہم یک طرفہ اور امتیازی محسوس ہو رہی ہے۔ اردو بولنے والے ہی نہیں، بلکہ پنجابی، پٹھان، بلوچ، سندھی، کشمیری، گلگتی، بلتستانی، میمن، گجراتی اور دیگر زبان بولنے والے سب ہی اس عمل سے متاثر ہیں۔
اجرک بلاشبہ سندھ کی تہذیب کا ایک خوبصورت اور پرامن نشان ہے مگر اسے انتظامی معاملات میں الجھانا، شہریوں پر زبردستی نافذ کرنا، عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ جب یہ ثقافتی علامت ایک “قانونی جبر” کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو پھر وہ ثقافت کی نمائندگی نہیں بلکہ تعصب کا تاثر دینے لگتی ہے۔
کراچی جیسے کثیرالسانی اور کثیرالقومی شہر میں کسی ایک علاقائی علامت کو جبری طور پر مسلط کرنا ایک خطرناک طرزعمل ہے۔ تعصب جب ریاستی پالیسوں کا حصہ بنتا ہے تو وہ معاشرتی ہم آہنگی کو پارہ پارہ کر دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شہریوں کی جانب سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ “کیا کراچی سندھ کا حصہ نہیں؟ یا یہاں کے شہری دوسرے درجے کے ہیں؟”رپورٹس کے مطابق کراچی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے نہ صرف بغیر اجرک نمبر پلیٹ گاڑیوں کا چالان کیا جا رہا ہے بلکہ بعض مقامات پر گاڑیاں ضبط کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال عوام کے لیے ذہنی اذیت اور معاشی بوجھ بن چکی ہے۔ کئی شہری اس بات پر بھی شاکی ہیں کہ اصل مسائل — جیسے رشوت، ٹریفک جام، تجاوزات، اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں — کے حل کی بجائے اجرک نمبر پلیٹ جیسے “علامتی” مسئلے پر زور دیا جا رہا ہے۔
حکومت اپنے فیصلے پرنظر ثانی کرے انا کا مسلہ نہ بنائے،
اگر حکومت واقعی سندھ کے ثقافتی ورثے کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے مثبت انداز میں، رضاکارانہ مہم کی صورت میں متعارف کرایا جائے، نہ کہ جبر و تعصب کے ذریعے۔ اجرک کو سیاست یا قانونی دھونس کا ہتھیار بنانے کے بجائے اسے فخر، یکجہتی اور محبت کی علامت رہنے دیا جائے۔
نمبر پلیٹ کا مسئلہ انتظامی ہے، ثقافتی نہیں۔ اسے تعصب یا شناخت کی جنگ نہ بنایا جائے۔ اجرک سندھ کی پہچان ہے، مگر اسے عوام پر جبر کے ساتھ نافذ کرنا خود اس خوبصورت علامت کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت سندھ اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کراچی سمیت پورے سندھ کے عوام کے ساتھ مساوی سلوک کرے، نہ کہ مخصوص شناختوں کو فوقیت دے کر نفرت کا بیج بوئے۔























