فروغ نسیم بھی زیادتی کےمجرموں کو سرعام سزائےموت کے مخالف نکل

تفصیلات کے مطابق وزارت قانون نے زیادتی کےمجرموں کو سرعام سزائےموت کی مخالفت کر دی، فروغ نسیم نے کہا سرعام پھانسی اسلامی تعلیمات اورآئین کےمنافی ہے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ 1994 میں سپریم کورٹ سرعام پھانسی کی سزاغیر آئینی قراردے چکی اور کہہ چکی ہے کہ سرعام پھانسی آئین،شریعت کی خلاف ورزی ہے ، وزارت قانون آئین اورشریعت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔

یاد رہے قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سر عام سزائے موت دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی تھی،یہ قرارداد وزیر مملکت علی محمد خان نے پیش کی تھی ، تاہم پیپلز پارٹی نے قرارداد کی مخالفت کی

اپنا تبصرہ بھیجیں