پاکستانی معاشرے میں سزاوں کے نہ ملنے کے سبب جہاں ایک جانب عدلیہ اور عاملہ کو مزاق سمجھ لیا گیا ھے

ہٹا دینا کافی نہیں جناب ! مثال عبرت بنادیجیئے

📌 17 گریڈ کے لاڈلوں کو 20 اور 21 گریڈز سے نواز دیا جاتا ھے

👈 ڈیپوٹیشنز والے لاڈلوں کے جملہ امور کی بھی سخت چھان بین ہونی چاھیئے

“”تحریر: شکیل راجپوت””

پاکستانی معاشرے میں سزاوں کے نہ ملنے کے سبب جہاں ایک جانب عدلیہ اور عاملہ کو مزاق سمجھ لیا گیا ھے تو وہیں سزاوں سے بچ جانے پر یہی عناصر آئیندہ کیلئے چھوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرے کو مسلسل زوال در زوال کی طرف لے جاکر کرپشن، اقرباپروری کے ذریعے میرٹ کا قتل عام کرتے ہوئے آئیندہ نسلوں کیلئے بھی راہیں مسدود کرتے چلے جارھے ہیں ! ملک کی معتبر ترین عدالت سپریم کورٹ نے جس طرح SBCA کے DG کو اسکے عہدے سے ہٹایا ھے اس سے ثابت ہوتا ھے کہ “نااہل” کو ٹھیکے دیکر بٹھایا گیا تھا جسے عدالت نے کک آوٹ کرکے عوام دوستی کا ایک اور ثبوت دیدیا ھے۔۔

۔SBCA سے DG سمیت سینئر افسران کو ہٹائے جانے کے احکامات تو مورخہ 6 فروری 2020 کو جاری ہوئے لیکن اس سے ایک ماہ قبل SPSC کی کارکردگی کا پول بھی کھل چکا ھے، ! ماضی قریب کا جائزہ لیا جائے تو تقرریوں کا حال بھی مکمل طور پر واضح ھے ، اور تقرریوں کے حوالے سے اس سے بڑا فراڈ اور کیا ہوگا کہ ایک چہیتا افسر کرپشن کرتا ھے ، پھر نیب میں پکڑا جاتا ھے ، پلی بارگین کرکے کرپشن کی گئی رقم کا ایک حصہ واپس کرتا ھے اور ثابت شدہ یہ چور ایک بار سندھ کے ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر لگا دیا جاتا ھے۔۔۔

زرا سا غور فرمایئے ! نرالے لاڈلوں کی OPS اور ڈیپوٹیشنز پر تقرریاں کیجاتی ھیں ! کام لیئے جاتے ہیں اور پھر چند سالوں بعد سپریم کورٹ ہی کے ایک حکم پر انہیں واپس انکے اصل محکموں میں بھیج کر سینیارٹی کے گھپلے میں بڑے بڑے گریڈز سے نواز دیا جاتا ھے، میرٹ کو جوتوں کی نوک پر رکھتے ہوئے 17 گریڈ کے لاڈلوں کو 20 اور 21 گریڈز سے نواز دیا جاتا ھے۔۔OPS اور ڈیپوٹیشنز والے لاڈلوں کے جملہ امور کی بھی سخت چھان بین ہونی چاھیئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی الگ ہوسکے۔۔

سزائیں دیجئے جناب ورنہ کینسر تو قتل عام کرتا ہی رھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔شکیل راجپوت

اپنا تبصرہ بھیجیں