آئی ایم ایف نے کا حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر دی جانے والی عمومی ٹیکس چھوٹ پر اعتراض

آئی ایم ایف نے کا حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر دی جانے والی عمومی ٹیکس چھوٹ پر اعتراض

چینی کی خوردہ قیمت 165 روپے کلو، حکومت اور شوگر ملز میں اتفاق، سابق نگراں وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے چینی درآمد کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے
اسلام آباد (مہتاب حیدر، اسرار خان، ایجنسیاں) حکومت اور شوگر مالکان کے درمیان معاملات طے پاگئے، جسکے بعد چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو گرام مقرر کردی گئی ہے، وزارت غذائی تحفظ نے کہا ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں اس فیصلے کی روشنی میں عوام کو سستی چینی کی دستیابی یقینی بنائینگی۔ دوسری جانب سابق نگراں وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے چینی درآمد کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے۔ فواد حسن فواد نے ایک بیان میں کہا کہ چینی کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے نام پر 30 کروڑ ڈالر کی چینی درآمد کرنے کے فیصلے پر فوری نظر ثانی کی جائے، قیمتیں کنٹرول کرنا حکومت کا کام ہے، چینی کی 30 کروڑ ڈالر کی درآمد عوامی مفاد میں نہیں، عام آدمی چینی کا بڑا صارف نہیں بلکہ اصل فائدہ خوراک و مشروبات کی صنعت کو ہے، اس میں ناکامی چینی کی درآمد کا جواز نہیں ہو سکتی، دوسری جانب آئی ایم ایف نے پانچ لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر عمومی ٹیکس چھوٹ پر اعتراض کیا ہے، ایف بی آر نے بھی ٹیکس کٹوتی کیلئے چینی ملز کو بھی 150 سے 155 روپے فی کلو چینی اٹھانے سے روکدیا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت قومی غذائی تحفظ نے اعلان کیا ہے کہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت اور شوگر مل مالکان کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ وزارت نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس نئی قیمت پر چینی کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ یہ معاہدہ کئی ہفتوں تک عوام کی جانب سے چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو تک پہنچنے پر شدید ردعمل کے بعد کیا گیا ہے۔ حکام نے قیمتوں میں اضافے کا الزام چینی مافیا کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے پر عائد کیا، حالانکہ حکومت نے سپلائی بہتر بنانے کیلئے عارضی طور پر درآمدی ڈیوٹی بھی معطل کر دی تھی۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے بھی دی نیوز سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے حکومت کے ساتھ ایکس مل چینی کی قیمت 165 روپے فی کلو مقرر کرنے پر معاہدہ کر لیا ہے۔ جبکہ فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ عام آدمی نہ مشروبات خرید سکتا ہے اور نہ مٹھائیاں پھر ان کے نام پر درآمد کیوں؟ برآمد کی اجازت دینے پر کیا کوئی جواب دہ ہوگا؟واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا تھا۔ وزارتِ غذائی تحفظ نے کہا تھا کہ پانچ لاکھ ٹن شوگر درآمد کرنے کا فیصلہ حتمی طور پر ہوگیا ہے اور درآمد حکومتی شعبے کے ذریعے کی جائیگی۔ دریں اثناء بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر دی جانے والی عمومی ٹیکس چھوٹ پر اعتراض کیا ہے، جس کا اشارہ ہے کہ اس سے اندرونی مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔