یہ جامع تقریر پاکستان کا پیش خیمہ تھی

یہ پچھلے دنوں کی بات ہے کہ چند معاونین کے سہارے جناب ایس ایم ظفر میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔ اُن کے ہاتھ میں انگریزی میں طبع شدہ اپنی تصنیف History of Pakistan Reinterpreted (Constitutional, Political & Social)تھی۔ اُنہوں نے 796صفحات پر مبنی یہ کتاب مجھے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اِس کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے اور اِس کے مندرجات اپنے قارئین تک بھی پہنچا دیجیے۔ میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی، اگرچہ اب میرے لیے کتابوں کا مطالعہ روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مَیں جناب ایس ایم ظفر کا بڑا مداح ہوں کہ اُنہیں لکھنے پڑھنے سے گہرا شغف ہے۔ اُن کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں جس حیثیت سے بھی کام کیا اور نام بنایا، اسے کتاب میں محفوظ کر دیا۔ وہ کھلے ذہن کے مالک ہیں اور اختلافِ نظر کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ وہ مختلف علمی، تحقیقی اور سماجی اداروں سے وابستہ رہے اور اپنے مشاہدات اور تجربات رقم کرنے میں کبھی سستی اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ غوروفکر کے موتی وقتاً فوقتاً بکھیرتے رہتے ہیںاُن کی یہ تازہ تصنیف دراصل تاریخِ پاکستان کے ایک عمیق مطالعے کا ثمر ہے جو حد درجہ دلچسپ، فکر انگیز اور بعض مقامات پر انکشافات کے ذیل میں آتا ہے۔ اُن کا یہ جائزہ اِس لیے بہت بیش قیمت ہے کہ وہ ایوانِ اقتدار میں بھی رہے، پاکستان کے مایہ ناز ماہرِ قانون ہونے کی حیثیت سے بڑے بڑے قومی حقائق سے آگاہ رہے اور سیاسی جماعتوں میں فعال کردار ادا کرنے کے سبب سیاسی داؤ پیچ سے بھی پوری طرح واقف رہے اور سینیٹ میں آٹھ سال گزارنے کی بدولت اشرافیہ کے طور اطوار دیکھنے کا تماشا بھی کرتے رہے، چنانچہ وہ پاکستانی تاریخ کی تشریحِ نو کرتے ہوئے بہت سارے رازہائےسربستہ سے پردہ اُٹھاتے آئے ہیں۔

جناب ایس ایم ظفر نے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام اور اس کی غرض و غایت بیان کی ہے جو ہمارے ذہنوں سے فراموش ہو چکی تھی۔ نواب وقار الملک کی افتتاحی تقریر نقل کی ہے جو اُنہوں نے 1906ء میں ڈھاکا میں کی تھی ’’حاضرین آپ اُس وقت کا تصور کیجیے جب ہندوستان سے برطانیہ جا رہا ہو گا اور مسلمانوں کی صورتحال کیا ہو گی۔ وہ ہندو اکثریت اور ظلم کے تابع زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اِس تاریک وقت کا اچھی طرح اندازہ لگائیں اور فیصلہ کریں کہ ہمیں کس طرح آگے بڑھنا ہے‘‘۔ مصنف کی نظر میں یہ جامع تقریر پاکستان کا پیش خیمہ تھی۔ اِس علمی اور تحقیقی کتاب میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاسوں میں ہونے والے اہم فیصلے اور مباحث کا تفصیلی ذکر موجود ہے جن سے صحیح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جماعت کن کن مرحلوں اور چیلنجوں سے گزری تھی اور جناب محمد علی جناح نے اس میں 1913میں شرکت کرنے کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کو قریب لانے کے لیے کیا کیا جتن کیے تھے اور اُن کی کاوشوں سے آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین کانگریس کے درمیان ’معاہدۂ لکھنؤ‘ طے پایا جس میں جداگانہ انتخابات کا اصول طے کیا گیا تھا، مگر آگے چل کر کانگریسی قیادت اور خاص طور پر جواہر لعل نہرو اور گاندھی جی نےقائداعظم کے چودہ نکات بھی مسترد کر دیے۔ 1928میں دونوں جماعتوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ 1940 تک یہ بات ہر پہلو سے ثابت ہو چکی تھی کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی جماعت ہے اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ اُن کا اپنا ایک جداگانہ اور آزاد وَطن ہو۔

آل انڈیا مسلم لیگ کا جو سالانہ اجلاس 1940میں منٹوپارک لاہور میں منعقد ہوا، اس میں پورے ہندوستان سے ایک لاکھ مندوبین نے حصہ لیا۔ اِس سہ روزہ اجلاس میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی جس کے بارے میں جناب ایس ایم ظفر کی کتاب پڑھتے ہوئے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ قرارداد تاجِ برطانیہ کے تحت رہتے ہوئے ہندوؤں کے مقابلے میں مساوی اختیارات حاصل کرنے کا ایک فارمولا تھا۔ جبکہ قائداعظم نے اِس موقع پر جو صدارتی خطبہ دیا اُس میں ہندوستان کی تقسیم کا واضح مطالبہ کیا گیا تھا۔ دراصل 1937کے انتخابات کے نتیجے میں ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں سے آٹھ صوبوں میں کانگریسی حکومتیں قائم ہو گئی تھیں جنہوں نے مسلمانوں پر اِس قدر ظلم ڈھائے کہ پورے ہندوستان میں ایک تہلکہ مچ گیا اور یہ احساس شدت پکڑتا گیا کہ مسلمان اپنا مذہبی تشخص اور اپنا سیاسی اور معاشی وجود قائم نہیں رکھ سکیں گے، چنانچہ قائداعظم نے اپنے صدارتی خطبے میں ارشاد فرمایا کہ ہم سب کے لیے ایک ہی راستہ کھلا ہے کہ ہندوستان کو ’مسلم انڈیا اور ہندو اِنڈیا‘ میں تقسیم کر دیا جائے۔ ہندو اور مسلم اپنا الگ الگ مذہبی فلسفہ معاشرتی، رسم و رواج اور اَدبی سرمایہ رکھتے ہیں۔ اُن کے درمیان شادیاں ہوتی ہیں نہ وہ اکٹھے کھانا کھا سکتے ہیں۔ عام طور پر ایک کا ہیرو دُوسرے کا دشمن ہے۔ اِس تقریر میں قائداعظم نے فرمایا’’اسلام کے سپاہیوں کی طرح آگے بڑھو اور سیاسی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے مسلمانوں کو منظم کرو۔ ہمارے عوام پہلے ہی بیدار ہو چکے ہیں، اُنہیں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تم ایک ایسی طاقت بن جاؤ گے جسے ہر شخص کو قبول کرنا ہو گا‘‘۔

قائداعظم کے اِن ارشادات سے پوری طرح واضح ہے کہ قراردادِ لاہور تقسیم ِ ہند کی پہلی دستاویز تھی جس نے تحریک ِپاکستان کی بنیاد فراہم کی اور برطانیہ اور انڈین کانگریس پر واضح کر دیا کہ مسلمان اقلیت نہیںبلکہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک قوم ہیں اور اسے اپنا ایک جداگانہ وطن درکار ہے۔ جناب ایس ایم ظفر نے یہ زبردست علمی کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ اُنہوں نے یہ ثابت کیا کہ قائد اعظم نے مسلمانانِ ہند میں نشاۃِ ثانیہ کی جو بیداری پیدا ہو چکی تھی، اس کی نہایت فہم و فراست سے قیادت فرمائی اور طےشدہ ہدف کے مطابق اُن کے لیے ایک آزاد وَطن حاصل کیا۔ اِس طرح اُنہوں نے تحریکِ پاکستان کو شخصی کامیابی کے بجائے زبردست عوامی سوچ اور دیانت دارانہ قیادت کی کامیابی قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں