بھارت کا قدیم شہر الہ آباد

تحریر و تحقیق : شاہ ولی اللہ جنیدی
بھارت کے صوبے اتر پردیش میں واقع قدیم شہر الہ آباد کو تاریخی اعتبار سے منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ شہر گنگا اور جمنا کے سنگم پر آباد ہے یہ ہندوں کا مقدس مقام اور یہاں ریلوے کا بہت بڑا جنکشن واقع ہے ،
الہ آباد کا پرانا نام پریاگ ہےوہ سنسکرت کے لفظ پراگ سے نکلا ہے جس کے معنی قربانی کے بتائے جاتے ہیں ممتاز مورخ مسٹر سی ڈی اسٹیل پرانے ڈسٹرکٹ گزیٹئر میں لکھتے ہیں کہ الہ آباد کا موجودہ نام بادشاہ اکبر نے رکھا تھا اس وقت تک اس کا نام پریاگ چلا آرہا تھا ان کا کہنا ہے کہ غالبا یہ نام پورو نے رکھا تھا جو بودھ کی نسل سے چھٹی پیڑھی میں تھا مشہور ہے کہ اسی نے پرانے شہر کی بنیاد حضرت عیسی علیہ السلام سے اکیس صدی پیشتر ڈالی تھی اور یہ کہ الہ آباد کی سب سے پرانی تاریخ پریاگ مہاتم آج بھی برٹش میوزیم لائیبریری میں موجود ہے خلاصتہ تاریخ میں ہے کہ اکبر نے قلعہ تعمیر کرایا تو اس کا نام الہ باس رکھا شاہ جہان نے الہ آباد کردیا ، مشہور سیاح ہیون تسانگ جو ساتویں صدی میں آیا تھا یہی نام لکھتا ہے ،،، الہ آباد ڈویزن کی مجموعی آبادی 5,959,798 افراد پر مشتمل ہے۔ الہ آباد صوبے کا ساتواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جبکہ شمالی ہندوستان کا تیرھواں اور ہندوستان کا چھتیسواں، شہر ہے۔2011 میں اسے دنیا کا 40 واں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے شہر کا درجہ دیا گیا ۔ یہ شہر اتر پردیش کا عدالتی دارالحکومت ہے جہاں الہ آباد ہائی کورٹ ریاست کا سب سے اعلیٰ عدالتی ادارہ ہے اس شہر کی مرکزی زبانیں اردو ، اودھی، ہندی ، انگریزی ، بنگالی اور پنجابی ہیں۔ جبکہ اردو لکھنے اور بولنے والی آبادی تقریبا بارہ لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہاں اردو کی تعلیم کے لئے چھوٹے بڑے سینکڑوں مدارس اور کالج موجود ہیں۔

۔ مسلمانوں کے دور حکومت سے قبل اس کا نام پراگ تھا،یہاں بادشاہ اکبر کا ایوان، جامع مسجد اشوک کی لاٹھ ، زمین دوز قلعہ اور خسرو باغ ، دائرہ حضرت شاہ محمد اجمل قابل دیدتاریخ عمارات ہیں۔ہندوستان میں آزادی کی تحاریک کے بنیادی ڈھانچے اور منشور اسی شہر میں تیار ہوئے، 1857ء میں جنگ آزادی کے دوران یہاں انگریزوں اور حریت پسندوں میں زبردست لڑائی ہوئی۔۔ 1861ء میں یہان انگریزوں کی عملداری رہی ۔ قیام پاکستان میں الہ آباد کو انتہائی اہمیت حاصل ہے29دسمبر 1930 کو دوازدہ منزل نخاس کہنہ نزد محلہ دائرہ شاہ اجمل آلہ آباد میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منقد ہوا تھا جس کی صدارت شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کی تھی ،اس اجلاس میں نواب محمد یوسف ۔ عبدالحئی عباسی۔ نواب محمد اسماعیل ۔ سر حسین امام ۔مولوی محمد یعقوب ۔سر عبدالقادر ۔مولوی عبدالقادر قصوری ۔سید ذاکر علی ۔خان بہادر برکت اللہ غازی پوری۔مولانا عبدالماجد بدایونی۔مولانا علاوالدین میرٹھی۔ شاہ حفیظ عالم جنیدی۔۔مولانا عبدالخیر غازی پوری ۔احمد الدین مارہروی ۔غصنفراللہ رحم علی ہاشمی ۔سید محمد حسین۔بیرسٹر ظہور۔ڈاکٹر ایم یو جنگ۔مفتی فخر الاسلام ۔ کراچی سے سیٹھ عبداللہ حسین ہارون ۔عبدالمجید سندھی ۔سیٹھ طیب علی و دیگر شریک تھے ۔علامہ محمد اقبال نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبے میں بڑی وضاحت سے ہندوستان کے حالات، مسلمانوں کی مشکلات، ان کے مستقبل اور مسلمانان ہند کی منزل کی نشان دہی کی الٰہ آباد کو قدیم دور سے ہی تعلیمی اور سماجی اہمیت حاصل رہی ہے۔ تعلیمی اعتبار سے یہ شہر بےحد اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ ۔ الٰہ آباد یونیورسٹی بھارت کا وہ قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے جسے 1887ء میں انگریزی سرکار نے شروع کیا تھا۔ 25دسمبر 1946کو الہ آباد یونیورسٹی میں میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت منایا گیا تھا مسلم بورڈنگ ہاوس میں منعقدہ تقریب میں مسلم لیگی رہنما صدیقی ، ڈاکٹر ایس این جعفری۔ مفتی فخرالاسلام عثمانی اور اچھوت فیڈریشن کے نمائندوں نے شرکت کی مقررین نے قائداعظم کی گرانقدر خدمات پرانھیں خراج تحسین پیش کیا اس تاریخی شہر نے اردو ادب کو اکبر الہ آبادی جیسا طنزومزاح کا شاعر دیا ہے۔ جبکہ یہ علاقہ دنیا بھر میں امرود اور اکبر الہ آبادی کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے کچھ الہ آباد میں ساماں نہیں بہبود کے
یاں دھرا کیا ہے بجز اکبر کے اور امرود کے
اکبر الہ آبادی اس شہر نے شہزادہ خسرو مرزا.مرزا نالی جبکہ کئی صدر سربراہ مملکت اور وزراٗ اعظم کو جنم دیا ہے ان میں جواہر لال نہرو، گلزاری نندا،لال بہادر شاستری ،اندرا گاندھی ، چندر شیکھر، وی پی سنگھ ممتاز سیاست دان وجیا لکشمی پنڈٹ.جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلس. سرتیج بہادر سپرو۔مجاہد آزادی مدن موہن مالویہ ۔امتیاز عالم حنفی سابق گورنر اسٹیٹ بنک۔ڈاکٹر امر ناتھ جھا۔ڈاکٹر تارا چند۔ڈاکٹر بینی پرشاد۔ڈاکٹر عبدلستار صدیقی ۔ کلاسیکل فنکارہ شوبھامڈگل.اداکارہ. نرگس دت. پروفیسر نعیم الرحمان شامل ہیں جبکہ ممتاز مشاہیر میں پیر طریقت حضرت شاہ محمد افضل الہ آبادی ، حضرت شاہ محمد اجمل ، حضرت شاہ خوب اللہ ، شاہ بشیر میان الہ آبادی ، حضرت شاہ سید احمد اجملی مفتی اسلم عثمانی۔مولوی متین شمسی۔ممتاز صحافی مختار زمن ۔ایچ ایم عباسی۔ فخر عثمانی مولانا شاہد فاخری۔مختارعباس نقوی گورنر اسٹیٹ بنک امتیاز عالم حنفی ۔ڈاکٹر عشرت حسین ممتازادیب وآڈیٹر جنرل پاکستان مشتاق احمد وجدی ،ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک سید اختر حسین سمیت انگنت شخصیات شامل ہیں ۔ مشہور شعرا ‘میں نوح ناروی’ ممتاز شاعرفراق گورکھپوری ،اردو جاسوسی ناول نگار ابن صفی ، انجمن ترقی پسند مصنفین انڈیا اور کمیونسٹ پارٹی پاکستان کے بانی رکن سجاد ظہیر بنے بھائی جبکہ ترقی پسند شاعر ادیب ڈاکٹر اجمل اجملی مصطفے زیدی ،سید مجاور حسین رضوی ۔ شبنم نقوی ، راز الہ آبادی ،ترقی پسند طلباء تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے بانی ڈاکٹر محمد سرور ۔ سید محمد اکمل اجملی ، سید مجاور حسین رضوی۔ ڈاکٹر علی احمد فاطمی۔۔ممتاز ماہر تعلیم سید حمیل احمد نقوی ۔عزیز انصاری ۔ممتاز پبلشر عباس حسینی ۔پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عقیل ، سید شاہ محمد افضل الہ آبادی ، پروفیسر مشتاق انصاری ،اردو کے مشہور محقق تنقید نگار شمس الرحمان فاروقی عتیق الہ آبادی ، پروفیسر سید سراج الدین اجملی وغیرہ نے اردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا،الہ آباد میں طب کے شعبوں میں ،ڈاکٹر جابرصدیقی ،ڈاکٹر ٹنڈن، ڈاکٹر سید مصطفی اور ڈاکٹر عسکری خاصی شہرت رکھتے تھے جبکہ خطیب مشرق مولانا مشتاق احمد نظامی رضوی کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے ، ہندی کے ممتاز شاعر اور بالی وڈ کے سپر ا سٹار امیتابھ بچن کے والد آنجہانی ہری ونش بچن کا تعلق اسی شہر سے ہے وہ ایک زمانے میں جب اردو کے ممتاز شاعر فراق گورکھپوری الہ آباد یونیورسٹی کے انگریزی کے شعبے کے سربراہ تھے، بچّن جی اسی شعبے میں انگریزی ادب کے پروفیسر رہے اس شہر میں ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، پارسی ، جین اور بودھ مذہب سمیت تمام مذہب کے افراد آباد ہیں یہان ہندووں کا مذہبی تہوار کنبھ کا میلہ ہر 12 سال میں ایک بار منعقد ہوتا ہے ۔اس میلے کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی ہے۔ ہندو روایات کے مطابق ان کے دیوتاؤں اور بدی کی قوتوں کے درمیان مقدس پانی کے ایک برتن پر لڑائی ہوئی تھی اس دوران اس کے چند قطرے الہ آباد سمیت چار علاقوں میں گرے تھے۔ ان چاروں علاقوں میں باری باری یہ تہوار منعقد ہوتا ہے۔الہ آباد میں ہونے والا میلہ دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ مقدس اور بڑا تصور کیا جاتا ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق دریاؤں کے سنگم میں غسل کرنے سے ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ یہاں لگ بھگ 10 کروڑ افراد گنگا اور جمنا میں غسل (اشنان) کرتے ہیں میرے آباو اجدا د کا تعلق اسی شہر سے ہے مجھے دو مرتبہ انڈیا جانے کا موقع ملا ہے پہلی مرتبہ 1982 میں قبلہ والد محترم سید شاہ محمد خلیل اللہ جنیدی مرحوم کے ہمراہ اور دوسری مرتبہ 1992میں اپنے عزیز دوست آفتاب علی مقیم امریکہ کے ساتھ جانا ہوا تھا ہمارا قیام نانا میان حافظ شاہ سید احمد اجملی رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین دائرہ حضرت شاہ اجمل کے گھر 199دائرہ شاہ اجمل میں میں رہا یہ گھر الہ آبا میں محل کے نام سے مشہور اس گھر کی اپنی ایک تاریخی اہمیت ہے 1670عیسوین یعنی ساڑھے تین سو سال پہلے اس گھر کی بنیادبانی دائرہ شاہ اجمل حضرت شیخ محمد افضل آلہ آبادی رح نے رکھی تھی یہان نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا موئے مبارک ،حضرت علی ،حضرت خواجہ خضر ،غوث العظم عبدالقادر جیلانی بڑے پیر صاحب سمیت بزرگوں کے نادر تبرکات موجود ہیں ،، کئی سو سال پرانے اس محل سے اردو و فارسی کے نامور شعراء حضرت ،شاہ محمد افضل الہ آبادی ، حضرت شاہ محمد اجمل، شاہ میرن جان الہ آبادی ، شاہ محمد بشیر میان الہ آبادی ،شاہ نذیر احمد الہ آبادی، ڈاکٹر اجمل اجملی ، سید اکمل اجملی ،شاہ افضل اجملی مرحومین سمیت نامور شخصیات نے جنم لیا جبکہ اردو کے ممتاز شاعر امام بخش ناسخ نے بھی اس دائرے میں کئی مرتبہ ہمارے نانا کے گھر قیام کیا ،ان کا یہ شعر اسی دائرہ کے حوالے سے ہے
ہر پھر کے دائرہ ہی میں رکھتا ہوں میں قدم
آئی کہاں سے گردش پرکار پاؤں میں
پاکستان آنے سے قبل میرے والد شاہ خلیل اللہ جنیدی رح نے اپنی زندگی کے کچھ ایام الہ آباد میں گزارے اس دوران انھون نے مشاعروں میں بھی شرکت کی وہ ندیم غازی پوری کے نام سے پہچانے جاتے تھے ،الہ آباد میں قیام کے دوران آپ نے ناموس رسالت کی تحریک میں بھی حصہ لیا اس پاداش میں جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کئیں ۔والد گرامی کے ہمراہ جیل کے ساتھیوں میں انٹر بورڈ کراچی کے سابق چیئرمین پروفیسر نعیم اللہ صدیقی و دیگر بھی شامل تھے ، میرے بڑے ماموں ڈاکٹر اجمل اجملی کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا شمار بھارت کے نامور شعرا اور نقادوں میں ہوتا ہے وہ چونکہ اپنے طالبعلمی میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اس بنا پر دائرہ حضرت شاہ محمد اجمل ہمارے ناناکے گھر جو عرف عام میں محل کہلاتا ہے اس میں ادبی محفلوں کا انعقاد ہوا کرتا تھا جس میں تیغ الہ آبادی، سجاد ظہیر بنے بھائی،نازش پرتاب گڑھی ، اسرار ناروی ابن صفی، راز الہ آبادی، نافع رضوی ،اسلام بیگ چنگیزی ،غلام کبریا ،نعیم اللہ صدیقی ، مشتاق انصاری سمیت دیگر افراد شرکت کیا کرتے تھے اسی طرح ڈاکتر اعجاز حسین الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ بھی آیا کرتے تھے
الغرض مجھے الہ آباد میں قیام کے دوران حسن منزل ۔دریا گنج ۔اٹالا ۔بخشی بازار ۔روئی کی منڈی۔ دوازدہ منزل ۔بہادر گنج ۔۔سول لائین، کریلی اسکیم ،روشن باغ زمین دوز قلعہ کے علاقے جبکہ ہائی کورٹ ، گھنٹہ گھر ، کوتوالی ،خسرو باغ ،الہ آباد یونیورسٹی ، آنند بھون جواہر لال نہرو اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی آبائی رہائیش گاہ سول لائن میں نواب یوسف کی کوٹھی ۔،چھونسی کا علاقہ ، اکبر کا قلعہ اور دریائے ،گنگا اور جمنا کا سنگم دیکھنے کا موقع ملا جبکہ ،،محلہ پتھر گلی میں برضغیر کے ممتاز مزاح گو شاعر اکبر الہ آبادی کی رہائیش گاہ , جدجہد آزادی کے ہیرو سبھاش چندر بوس کا مجسمہ دیکھنے کا بھی موقع ملا جبکہ آبائی قبرستان گلاب باڑی پر فاتحہ خوانی کے لئے بھی جانا ہوا کرتا تھا،،الہ آباد میں قیام کے دوران اپنے بھائیون سید سراج اجملی جوان دنوں علیگڑھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے استاد ہیں و سید قمر اجملی مقیم سکندر پور بلیا اور شاہ ضیااللہ مقیم دوہا قطر کے ہمراہ اندرون الہ آباد خاندان کے دیگر افراد کے گھر جایا کرتا تھا الہ آباد میں قیام کے دوران محفلوں میں بھی شرکت کا موقع ملا جبکہ اس دوران الہ آباد یونیورسٹی بھی جانا ہوا تھا جہاں اردو زبان کے مشہور شاعر۔ نقاد ۔ مترجم۔ رگھو پتی سہائے ۔ فراق گورکھپوری سے ملاقات کا شرف ملا اسی طرح ممتاز نعتیہ شاعر راز الہ آبادی ،نازش پرتاب گڑھی ، قیصر پرتاب گڑھی اور عتیق الہ آبادی سے بھی ملاقات رہیں جبکہ ماموں جان مرحوم سید اکمل اجملی رح کے دوستوں میں محمود ماموں اور آصف عثمانی بھائی سے ملاقات رہی آصف بھائی کے لطیفوں سے محفل زعفران زار ہوجایا کرتی تھی ان کی بزلہ سنجی سے لوگ محظوظ ہوا کرتے تھے جبکہ کبھی کبھار الہ آباد ریلوے اسٹیشن اور دیگر مقامات دیکھنے اکیلے نکل جاتا تھا ، ان دنوں پریاگ راج اور راج دھانی ایکسپریس نامی تیز ترین ریلیں چلا کرتیں تھیں ،،محلہ اٹالہ میں اپنے پھوپھی زاد بھائی سید شمیم احمد کے گھر اور کٹرے میں اپنی پھو پھی زاد بہن طلعت باجی اور اکرم بھائی سے ملنے جاتا تھا اکرم بھائی موٹر سائیکل پر مجھے شہر کے مختلف علاقون کی سیر کرایا کرتے تھے اسی طرح بہادر گنج میں لکڑی کی ٹال کے نزدیک طلعت خالہ اور شبانہ باجی کی رہائش گاہ تھی جبکہ محلہ پتھر گلی میں والد صاحب مرحوم کے دوست شاعر محمود احمد ہنر صاحب کے گھرجانا ہوا کرتا تھا وہاں فرزانہ آپا اور شنو سے ملاقات رہتی تھی ،،میرے پھو پھی زاد بھائی سید نسیم احمد جو اب لکھنو میں مقیم ہیں کسی زمانے میں الہ آباد میں رہا کرتے تھے ان کے ہمراہ آگرہ میں تاج محل دیکھنے گیا تھا یاد ہڑتا ہے ان دنوں الہ آباد سے رکن پارلیمنٹ رام نہور راکیش اور کانپورسے سبھاشنی علی منتخب ہوئین تھیں فلمسٹار امیتا بچن بھی پارلیمنٹ کے ممبر رہ چکے ہین اسی شہر میں میرے ایک دادا سر شاہ محمد سلیمان چیف جسٹس الہ آباد ہائی کورٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں ۔یہ شہر جس میں میرے پرکھوں کی نشانیان ہیں اسی بنا پر مجھے اس شہر سے قلبی لگاو ہے ۔۔۔۔۔۔ تاریخی دوازدہ منزل جہان1930میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوا۔ دروازے سے اندر داخل ہونے پر وہ وسیع جگہ ہے جہاں علامہ سر محمد اقبال کا خطاب ہواتھا اس عمارت کی
تصویریں حافظ عمران اجملی نے الہ آباد سے ارسال کی ہیں جس کے لئے میں ان کا ممنون ومشکور ہون