ملک ریاض-ہیرو یا زیرو

تحریر۔۔۔۔ شاہد غزالی

بلاخر اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا۔ ملک ریاض- جیسی شخصیت متاثرین بحریہ کے احتجاج جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے گھبرا گئی اور گذشتہ روز جماعت اسلامی کے دفتر پہنچ کر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور دیگر رہنماوں سے ملاقات میں دھرنا کو موخر کرنے کی اپیل کی۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ملک ریاض جماعت اسلامی اور متاثرین کے احتجاج اور تحریک سے پریشان ہو کر خود جماعت اسلامی سے بات کرنے ان کے دفتر آٰے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ملک ریاض اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ زبردستی پزیشن لینے کی شرط کو ختم کردیا جائے گا اور جن لوگوں کو پلاٹ نہیں دئیے گیے انھیں متبادل پلاٹ یا انکی رقم واپس کردی جائے گی
ملک ریاض نے متبادل پلاٹ دینے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے چھ ماہ سے ایک سال میں رقم واپس کردی جائے گی

حافظ نعیم الرحمان نے ریاض ملک کے وعدوں پر چند روز میں ہونے والے احتجاج اور دھرنوں کو موخر کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ بات چیت کے دروازے ابھی کھلے ہیں اگر بات چیت سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو ہمیں احتجاج یا دھرنے کی ضرورت نہیں اگر وعدوں سے انحراف کیا تو بھی احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالت جانے کا آپشن بھی کھلا رکھا گیا ہے
ملک ریاض جو بلڈرز اور پراپرٹی کے شعبے میں ہیرو مانا جاتا تھا اس نے بحریہ ٹاون اسلام آباد اور لاہور کی کامیابی کے بعد کراچی کے شہریوں کو ایک خوبصورت تحفہ دیا ۔ بحریہ ٹاون کراچی اپنے خوبصورت انفراسٹریکچر صفائی ستھرائی کی ایک مثال ہے ۔بحریہ ٹاون میں بکنگ کرانے والے اور یہاں پر رہائش پذیر لوگ ملک ریاض کے قصیدے پڑھتے تھے اس کی مارکیٹنگ کرتے تھے جو غلط بھی نہیں تھی ۔لیکن ملک ریاض جس نے بے شمار اچھے کام کیے جس پر لوگ اس کے گرویدہ تھے ۔سپریم کورٹ میں جب ریاض ملک پھنسے تو یہی بحریہ کے متاثرین تھے جو اس کے لیے دعائیں کرتے تھے کہ ملک ریاض کو عدالت کام کرنے کا موقع دے دے کیونکہ وہ اس وقت تک بھی ملک ریاض پر اعتماد کرتے تھے۔
لیکن ملک ریاض نے چار سو اکسٹھ ارب کا جرمانہ جو سپریم کورٹ نے اس پر عائد کیا وہ اس نے اپنے کلائنٹ پر ڈالنے کا پلان بنایا تو لوگ چینخ پڑے۔
جن لوگوں نے زندگی بھر کی پونجی بحریہ ٹاون کو اس امید پر دی کہ وہ وہاں اپنا سائبان بنایئیں گے ان میں سے ہزاروں لوگ آج بھی پلاٹ سے محروم ہیں۔ نہ انھیں متبادل پلاٹ ملا نہ انکی رقم جنکو چیک دئیے وہ باونس ہو گئے
پھر زبردستی 35 فیصد ترقیاتی اخراجات وصول کرنے کے منصوبے نے متاثرین کی کمر ہی توڑ ڈالی۔
متاثرین احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے تو احتجاج تحریک میں بدل گیا۔ جماعت اسلامی نے متاثرین کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا تو تحریک میں دم آگیا۔
اور ملک ریاض مجبور ہوکر جماعت اسلامی کے دفتر پہنچ گیا۔
اب جماعت اسلامی کیا ریاض ملک کے وعدوں اور تسلیوں پر اعتماد کرئے گی
ریاض ملک یہ وعدے گذشتہ دوسال سے متاثرین سے کررہا ہے جو صرف جھوٹ ثابت ہوئے۔

حیرت کی بات ہے کہ نعیم الرحمان نے سب سے اہم مطالبے 35 فیصد ڈولپمنٹ چارجز کا کوئی ذکر نہیں کیا جو سب سے زیادہ اہم ہے
شاید وہ آئندہ مٹینگ میں زیر بحث آئیں۔
لگتا ایسا ہے کہ ریاض ملک کی جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقات ڈیلے پریکٹس کا ایک حصہ ہے وہ صرف لولی پاپ دینے کی کوشش کررہا ہے

ملک ریاض جان لے کہ وہ اب عوام کا اعتماد کھو چکا ہے۔ اور اب وہ ہیرو سے زیرو بن کر رہ گیا ہے۔ کراچی میں ناکامی کے بعد وہ نواب شاہ اور پشاور جانے کا سوچے بھی نہیں کیونکہ بد اعتمادی کا یہ داغ اسے ہر جگہ رسوا کرئے گا۔۔
ملک ریاض کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ بحریہ ٹاون کراچی کے متاثرین کو اعتماد میں لینے کے لیے زبردستی 35 فیصد ترقیاتی اخراجات لینے کا فیصلہ واپس لے۔ زبردستی پزیشن اور پنالٹی کے بعد پلاٹ کینسل کرنے کی دھمکی پر معذرت کرئے اور جن لوگوں کو اب تک پلاٹ نہیں دئیے گیے انھیں متبادل دے یا انکی رقم فوری طور پر واپس کرئے۔
ورنہ تمہارا نام اب ہیروز میں نہیں زیرو میں شمار ہوگا۔

پھر تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اپنا تبصرہ بھیجیں