پاکستان کی پہلی اسپیس سائنسز تھیم ٹیلی فلم

پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کافی عرصے سے محدود موضوعات کے گرد گھومتی آئی ہے۔ اب تک زیادہ تر فلموں، ڈراموں یا ٹیلی فلمز کا مقصد صرف تفریح اور انٹرٹینمنٹ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس روایت میں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اب پاکستان میں بھی فلم اور ڈرامہ کو تعلیم اور آگاہی کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی فلم انڈسٹری میں نیا رخ

پاکستانی سینما کی بحالی کے لیے صرف فلم سٹی بنانا کافی نہیں، بلکہ مقامی کہانیاں دنیا تک پہنچانے کی ضرورت بھی ہے۔ اس کی ایک مثال انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنسز اسلام آباد کی نئی کاوش ہے۔ ان کی بنائی گئی ٹیلی فلم ’’جہاں اور بھی ہیں‘‘ پاکستان کی پہلی اسپیس سائنسز تھیم پر مبنی ٹیلی فلم ہے۔

یہ ٹیلی فلم نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو اجاگر کرتی ہے بلکہ جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے ان مسائل کا حل بھی بتاتی ہے۔ اسے 5 جون 2025ء کو عالمی یوم ماحولیات پر پاکستان ٹیلی وژن سے نشر کیا گیا۔ اس فلم کا اسکرین پلے سلینا خان نے تحریر کیا ہے جبکہ ہدایت کاری سرمد چیمہ نے دی ہے۔

یہ منصوبہ وزارت منصوبہ بندی، ایچ ای سی پاکستان، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، لاک ڈاؤن پروڈکشن اور گلوبل کلائمٹ امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے اشتراک سے مکمل کیا گیا۔ اس کا مقصد اسپیس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی افادیت اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں اس کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

فلم کی خاص بات

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ خلائی سائنس صرف مشن خلا تک بھیجنے تک محدود نہیں بلکہ اسے زمین پر آنے والے ماحولیاتی بحران اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فلم کی مرکزی کردار ڈاکٹر زینب ہیں جو ایک کلائیمیٹ سائنسدان ہیں اور ایک پاکستانی یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ یہ کردار مشہور اداکارہ آمنہ الیاس نے ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر زینب کا کردار خاص طور پر مڈل کلاس لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہے جو تمام رکاوٹوں کے باوجود تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔

منصوبے کے پیچھے مقصد

اس ٹیلی فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ڈاکٹر نجم عباس ہیں جو نیشنل سینٹر آف جی آئی ایس اینڈ اسپیس ایپلیکیشنز اسلام آباد کے چیئرمین ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی فلم انڈسٹری میں سائنس فکشن پر کم ہی کام کیا گیا ہے، اس لیے انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس موضوع پر کام کر کے ایک نیا رجحان متعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔

ڈاکٹر نجم عباس کے مطابق فلم کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنا اور سائنس کمیونیکیشن کو فروغ دینا ہے۔ اسی لیے اس کا دورانیہ بھی صرف 35 منٹ رکھا گیا ہے تاکہ تعلیمی ادارے اسے اپنی آگاہی مہمات میں استعمال کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے لیے حکومتی تعاون سے ہمت ملی، جبکہ اسکرین پلے تیار کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ ریلیز کے صرف ایک ماہ بعد ہی کئی جامعات اور پالیسی ساز ادارے اس ٹیلی فلم کو ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر آگاہی مہم میں شامل کر چکے ہیں۔

یہ فلم نومبر 2025ء میں اسلام آباد میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس آن ایپلیکیشنز آف اسپیس سائنسز میں بھی پیش کی جائے گی۔