پولیس مددگار 15 جدید تقاضوں کی طرف گامزن

پولیس مددگار 15 جدید تقاضوں کی طرف گامزن  
کراچی: کراچی پولیس جدید بین الاقوامی معیار پر ہنگامی ریسپانس کے طریقہ کار کو بہتر بنا رہی ہے۔  ڈی آئی جی پولیس سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروس ڈویژن مقصود احمد اب مددگار کمانڈاینڈ کنٹرول (ایم سی سی 15) اور دیگر متعلقہ خدمات کے آپریشنل انچارج ہیں۔
ایم سی سی 15 سمیت کراچی پولیس کی سیکیورٹی یونٹس کے سربراہ ڈی آئی جی مقصود احمد نے بتایا کہ سیکیورٹی اور ایمرجنسی ڈویژن میں ایم سی سی 15 کو مضبوط بنانے کے لئے مل کر کام کرنے والے مختلف پولیس یونٹس شامل ہیں جسکا بنیادی کام ہنگامی کالز پر فوری ریسپانس،خطرناک مجرموں کا تعاقب، اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام، سماج دشمن عناصر کی نگرانی، اسنیپ چیکنگ،معلومات جمع کرنا، عوامی سہولت اور مدد، ایس او ایس الرٹس اور ہنگامی خدمات کے اداروں کیساتھ ہم آہنگی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، ایم سی سی 15 اب 9 منٹ کے اندر کسی بھی صورتحال پر حرکت میں آئے گا۔ اس سے قبل ریسپانس کا دورانیہ 30 منٹ تھا۔  یہ فورس اب جدید آلات سے آراستہ ہوگی جن میں موبائل ٹیبلٹ، سیکیورٹی کیمرہ، وائرلیس مواصلات اور ٹریکر شامل ہیں۔
  فورس کو شناختی کارڈCNIC کی تصدیق کیلئے آئیڈینٹٹی ویریفیکیشن سسٹم(IVS)،بغیر رجسٹرڈ شدہ اور چوری شدہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی نشاندہی کرنے کے لئے وہیکل ویریفیکیشن سسٹم (VVS)، کسی شخص کی مجرمانہ ریکارڈ جانچنے کے لئے کریمنل ریکارڈسسٹم (CRV)، کسی بھی واقعہ کی معلومات، جیلوں سے رہا افراد کی نگرانی، کرایہ داروں کے انفارمیشن سسٹم (TIS) اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے ریکارڈ کی رسائی حاصل ہو گی۔
ڈی آئی جی مقصود احمد نے کہا کہ فورس کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کراچی میں ایک علیحدہ کمانڈ ڈیسک قائم کیا۔  ہر پیٹرولنگ پولیس موبائل کی لوکیشن اور نقل و حرکت براہ راست نشریات کے ذریعے ریکارڈ کی جائے گی جبکہ اسنیپ چیکنگ بھی ریکارڈ کی جائے گی اور کمانڈ ڈیسک سے ہدایات بھی جاری کی جائیں گی۔
ڈی آئی جی نے ایم سی سی 15 میں ہونے والی بہتری کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی اضافی اخراجات کو برداشت کیے اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ سیکیورٹی اور ایمرجنسی سروس ڈویژن کراچی کے قیام کے بعد ایم سی سی 15 میں مندرجہ ذیل اصلاحات کی گئیں: کراچی: ایس ایس پی عبداللہ میمن روزانہ کے معاملات کو دیکھتے ہیں، ایمرجنسی سروسز میں افرادی قوت کو 1100 سے بڑھا کر 2200 پولیس اہلکاروں تک کردیا گیا ہے۔ پہلے 15 ہنگامی خدمات کے لئے 106 پولیس موبائلوں کو تعینات کیا گیا تھا اب ایس ایس یو اور محافظ فورس کی بالترتیب40 اور 30 اضافی گاڑیاں بھی ہنگامی ریسپانس کے لئے استعمال کی جارہی ہیں۔مددگار 15 کال سنٹر میں تعینات ایس ایس یو کے اضافی اہلکارتعینات کر دیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ کراچی رینج کے ہر ضلع میں 7 تعیناتی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مددگار 15 کے جوانوں کوروانہ کیاجاتا ہے۔ تعیناتی مراکز کی نگرانی کے لئے ہر زون میں دو شفٹوں میں دو ڈی ایس پیز تعینات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افرادی قوت کی مناسب نگرانی کے لئے ہر تعیناتی مرکز میں بائیو میٹرک حاضری کا نظام نصب کیا گیا ہے۔ ہر تعیناتی مرکز میں کوت(آرمری) قائم ہے۔ کارکردگی کو بڑھانے کے لئے تیسری شفٹ بھی شروع کردی گئی ہے۔ اس وقت 15 ایمرجنسی موبائلز چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ ایمرجنسی سروسز کی روزمرہ تعیناتی چار مقامات (سی ٹی ڈی بلڈنگ، پی ٹی سی سعید آباد، چوکنڈی بیس، ہیڈ کوارٹر خواجہ اجمیر نگری اور گارڈن ہیڈ کوارٹر کراچی)سے کی جا رہی ہے جہاں جوانوں کے لئے رہائش کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ڈی آئی جی پولیس سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروس ڈویژن کراچی نے بتایا کہ  مددگار 15کے پرانے سسٹم کے ایمرجنسی کال سنٹر میں صرف دو پی آر آئی کام کر رہے تھے۔ اب ایک نیا پی آرآئی شامل کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ وائز ڈسپیچرز کو پانچ سے بڑھا کر سات کردیا گیا ہے۔ٹیلی کمیونیکیشن اور وائرلیس سیٹ کے عملے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ کال ایجنٹوں کیلئے کرسیاں ناکافی تھیں، لہذا ایمرجنسی کال سنٹر کو 80 نئی کرسیاں فراہم کی گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایم سی سی 15 کو از سر نو تشکیل دینے میں کال ریکارڈنگ، سننے اور آراء کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔ مددگار 15 موبائلزکے ایندھن کی حد 10 لیٹر سے بڑھا کر 15 لیٹر کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ڈی آئی جی مقصود احمد نے بتایا کہ اہلکاروں کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ سے پولیس کی نئی تشکیل شدہ ایمرجنسی ڈویژن کے اہلکاروں کے لئے خصوصی تربیت کی درخواست کی ہے۔
آئی جی پی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام کے وژن کے مطابق یہ ڈویژن کراچی شہر میں محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لئے سیکیورٹی کی تعیناتی اور ہنگامی ریسپانس کو ہموار کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ نئے قائم شدہ ڈویژن نے ایڈیشنل آئی جی پی کراچی غلام نبی میمن کی کمانڈ اور رہنمائی کے تحت کام کرنا شروع کیا ہے تاکہ دستیاب وسائل سے ہنگامی ریسپانس کوبہتر کیا جاسکے۔ مزید بہتری لانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق عملے کو تربیت دی جائے اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانس حاصل ہو۔
سندھ پولیس کی نئی تشکیل شدہ ڈویژن میں 400 پولیس اہلکارجن میں ایمرجنسی کال آپریٹرز، نگرانی آپریٹرزشامل ہوں گے پنجاب ڈولفن فورس او ر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹیز (پی ایس سی اے) سے تربیت حاصل کریں گے تاکہ ہنگامی خدمات اورریسپانس کا طریقہ کار بین الاقوامی معیار پر لایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں