
“پرامن پاکستان کی تعمیر میں میڈیا کے کردار” کے موضوع پر میڈیا سیمینار کا انعقاد
کراچی، 12 جولائی 2025 — انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سائیکالوجی، جامعہ کراچی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی (سینٹر آف ایکسیلنس)، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے “پرامن پاکستان کی تعمیر میں میڈیا کے کردار” کے عنوان سے ایک اہم میڈیا انٹریکشن سیمینار منعقد ہوا۔

یہ تقریب ملک گیر منصوبے “نوجوانوں میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کے نفسیاتی، سماجی و ماحولیاتی عوامل: ایک مقامی انسدادی مداخلتی پروگرام کی تشکیل و نفاذ” کا حصہ تھی، جس کا مقصد نوجوانوں میں انتہاپسندی کے بنیادی اسباب کا سائنسی و سماجی تناظر میں تجزیہ کرنا ہے۔
یہ منصوبہ UNODC (اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم) اور NACTA (نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی) جیسے اہم شراکت دار اداروں کے تعاون سے اور یورپی یونین کی مالی معاونت سے جاری ہے۔
اس سیمینار میں تعلیمی ماہرین، ذہنی صحت کے ماہرین، اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اہم مقررین میں شامل تھے:

پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حنیف، ڈائریکٹر، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی
ڈاکٹر عُزمیٰ علی، ڈائریکٹر، انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سائیکالوجی، جامعہ کراچی

مسٹر نعمان منظور اور محترمہ ماریانہ اقبال، نمائندگان UNODC
منصوبے کے تحت تین روزہ سرگرمیوں میں شراکت داروں کے لیے ورکشاپ، نوجوانوں کی شناخت اور سماجی ہم آہنگی پر سیمینار، اور نوجوانوں کے لیے لائف اسکلز ٹریننگ شامل تھی۔ یہ منصوبہ پاکستان کے سات اہم خطوں میں جاری ہے اور اس کا مقصد مقامی سیاق و سباق کے مطابق مؤثر مداخلتی حکمتِ عملیاں تشکیل دینا اور دیرپا پالیسی سفارشات پیش کرنا ہے۔
سیمینار کے اختتام پر مقررین نے نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے میڈیا کی ذمہ دارانہ شمولیت اور سماجی ہم آہنگی و ذہنی صحت کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
“ہم میڈیا کو ایک تبدیلی لانے والی قوت سمجھتے ہیں،” ڈاکٹر روبینہ حنیف نے کہا۔ “ایسی مربوط کوششیں ہی نوجوانوں کے لیے ایک محفوظ، پرامن اور بااختیار مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔”























