پاکستان ریلوے نے مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے نئی بزنس ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس بزنس ٹرین کا افتتاح وزیراعظم شہباز شریف 19 جولائی کو لاہور میں کریں گے۔ یہ ٹرین جدید کوچز پر مشتمل ہوگی جن میں آرام دہ نشستیں، جدید ڈیجیٹل سسٹم، عالمی معیار کا ڈائننگ کار اور مفت وائی فائی جیسی سہولیات موجود ہوں گی۔
ریلوے حکام کے مطابق اس ٹرین کی کوچز جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کی گئی ہیں تاکہ مسافروں کو محفوظ، آرام دہ اور جدید سفر فراہم کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹل اصلاحات کا حصہ ہے جس میں ای ٹکٹنگ، اسٹیشنز کی حالت بہتر بنانے اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر کام جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بریک وین اور مال بردار کوچز کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو شفاف طریقے سے آؤٹ سورس کی گئی خدمات سے حاصل کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مالی سال 2024-25 کے آخر تک ریلوے کی آمدنی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے نے اس عرصے میں مجموعی طور پر 93 ارب روپے کمائے۔ اس میں مسافر ٹرینوں سے ساڑھے 47 ارب، مال گاڑیوں سے ساڑھے 31 ارب، ملٹری ٹریفک سے ڈیڑھ ارب اور دیگر ذرائع سے 3 ارب روپے شامل ہیں، جبکہ متفرق آمدن ساڑھے 9 ارب روپے رہی۔ یہ ریلوے کی 78 سالہ تاریخ کی سب سے زیادہ آمدنی ہے۔ پچھلے سال ریلوے نے 88 ارب روپے کمائے تھے۔
مسافر شعبے میں کراچی ڈویژن سب سے آگے رہا جس نے مالی سال کے دوران پونے 15 ارب روپے کی آمدنی حاصل کی۔ لاہور ڈویژن نے سوا 11 ارب، ہیڈ کوارٹرز اور ملتان ڈویژن نے بالترتیب سوا پانچ اور پانچ ارب روپے کمائے۔ سکھر ڈویژن کی آمدنی 4.8 ارب، راولپنڈی کی 4.7 ارب اور پشاور کی سوا ارب رہی جبکہ کوئٹہ نے 52 کروڑ روپے کمائے۔ فریٹ سیکٹر میں کراچی ڈویژن نے سب سے زیادہ 28 ارب روپے جبکہ ملتان نے ایک ارب روپے آمدن حاصل کی۔ لاہور، پشاور، راولپنڈی، سکھر اور کوئٹہ ڈویژنز نے بھی لاکھوں روپے کی آمدنی اکٹھی کی۔























