سپریم کورٹ کے حکم امتناع کی وجہ سے نہر خیام پر پارک بننے کا کام شروع نہیں ہوسکا،

کراچی (7 فروری) وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون ، ساحلی ترقی و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ کی جامعات کو وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے، سپریم کورٹ کے حکم امتناع کی وجہ سے نہر خیام پر پارک بننے کا کام شروع نہیں ہوسکا، نہر خیام کو پارک بنانے میں سندھ حکومت خود سنجیدہ ہے، اختیارات کا رونا رونے سے بہتر ہے کہ کام کیا جائے، بہتر ملک اور معاشرہ بنانے کے لئے ہمیں اختیارات کی روش سے باہر نکل کر نیک نیتی سے کام کرنا چاہیے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ این اے ڈی میں انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان کراچی کے تعاون سے “مدر ارتھ ڈے” کے سلسلے میں سائکلنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، مرتضی وہاب نے کہا کہ آج ہیلدی فرائیڈے کے نام سے جمعہ کا روز ہم منا رہے ہیں، ایک بڑی اچھی مہم این اے ڈی یونیورسٹی انتظامیہ نے شروع کی ہے، این اے ڈی اب صرف انجینرنگ کی ہی بات نہیں کر رہی بلکہ اچھی صحت کی بھی بات کر رہی ہے، فرائیڈے کو گاڑیوں، موٹر بائیکس کی پابندی این اے ڈی کیمپس میں لگادی گئی ہے تاکہ جامعہ کو کاربن نیوٹرل بنایا جاسکے، ہم ایک صحتمندانہ ماحول معاشرے کو دینا چاہتے ہیں، اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اچھا ماحول قائم کرنس چاہتے ہیں، جامعہ کی انتظامیہ نے گرین این اے ڈی مہم کے تحت تقریبا ساڑھے سات ہزار پودے لگائے ہیں جو کہ اب تناور درختوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں، جامعہ نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ساڑھے سات ہزار درختوں میں سے بیس پچیس فیصد درختوں کو جیوٹیک کرلیا ہے یعنی چیک کیا جا سکتا ہے کہ وہ درخت کتنی کاربن کو میڈیکیٹ کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جو درخت لگائے گئے ہیں اس میں کراچی کے طالبعلموں کو شامل کیا اور دوسری طرف تھر سے طالبعلموں کو لے کر آئے اور ایک جوائنٹ اونرشپ کا کونسیپٹ دیا کہ طالبعلم سر سبز کراچی، سرسبز پاکستان اور سرسبز سندھ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، ہم تعلیمی مراکز کو درس و تدریس کے عکاوہ شہر میں بہتری لانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، این اے ڈی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک ٹیکنالوجی کا انٹرویونشن کیا ہے، ہوا میں موجود موسچرائزر کو استعمال کرتے ہوئے پانی پیدا کیا جا رہا ہے، ایک مشین تیار کرلی ہے جو ہوا سے دن بھر میں تقریبا چالیس سے پینتالیس لیٹر پانی تیار کر سکتی ہے، پاکستان کے انجینئرز بہترین کام کر رہے ہیں، ہیلدی فرائیڈے کے کونسیپٹ کو سندھ بھر میں مختلف مقامات پر فروغ دینے کی کوشش کرینگے، ہفتے میں ایک دن کوئی ایسا طے کریں کہ اس دن ہم گاڑی کا استعمال نہ کریں، موٹر بائیک استعمال نا کریں، بس کا استعمال نہ کریں بلکہ ہم پیدل چلیں سائیکل پر چلیں جو ہماری صحت کیلئے بھی اچھا ہوگا، ہمارے معاشرے اور ماحول کے لیے بھی اچھا ہوگا، عوام سے اپیل کروں گا کہ شجرکاری مہم میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں، ہماری ملکی صورتحال میں پانی کی قلت ایک اہم مسئلہ ہے، یقین دلاتا ہوں این اے ڈی یونیورسٹی کے پانی پروڈیوس کرنے کے اقدام کو فروغ دینگے، اس کام میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے، جامعات کو اسوقت مالی مشکلات کا سامنا ہے، وی سی سے بھی مالی مشکلات کے حوالے سے بات ہوئی ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے جسطرح کی فنڈنگ آنی تھی وہ نہیں آرہی، کٹوتیاں ہوئی ہے، ہم اس معاملے میں سندھ کی جامعات کی ترجمانی کر سکتے ہیں، سندھ کی جامعات کے ساتھ کھڑے ہیں، جامعات کا یہ مطالبہ وزیر اعلی سندھ تک پہنچاو ¿ں گا، سندھ کے ایچ ای سی تک یہ بات پہنچاو ¿ں گا، کوشش کرینگے کہ یہ بات وفاقی حکومت تک پہنچائیں کہ وہ اس معاملے کو فوری حل کریں، اگر ریسرچ میں صحیح فنڈنگ ملے گی تو اس طرح کے ناول کونسیپٹس پر عملدرآمد کرسکینگے اور اپنے معاملات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے، قانون سازی ایک الگ چیز ہے لیکن اونرشپ انسان خود اپنے آپ سے لاتا ہے، اگر ہم سب صحیح کردار ادا کریں گے تو ایک مثبت پیغام سب کو جائے گا، کل سپریم کورٹ کی ہئرنگ پر بھی نہر خیام پر پارک بنانے کے حوالے سے بات ہوئی تھی ، نہر خیام کے حوالے سے سندھ حکومت کا اقدام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تھا، سندھ حکومت نے کابینہ سے اسکی منظوری کرائی تھی ہمارا معاہدہ دستخط ہونے والا تھا، بدقسمتی سے کوئی شخص سندھ ہائیکورٹ چلا گیا اور کورٹ سے اسٹے آرڈر لے لیا، اس حکم امتناع کی وجہ سے اب تک اس پر کام شروع نہیں ہو پایا، کل سپریم کورٹ نے کہا ہے 6 مہینے کے اندر نہر خیام کو پارک میں تبدیل کیا جائے، اگر سندھ ہائیکورٹ کا اسٹے آرڈر ختم ہو جاتا ہے تو سندھ حکومت خود اس پر کام کرے گی، یقین دہانی کراتا ہوں کہ اس پروجیکٹ کو میں خود شروع کروں گا، اس پروجیکٹ پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا چاہتے ہیں، کورٹ کے اسٹے آرڈر کی وجہ سے کام نہیں کر پائے، کل کے فیصلے کا انتظار ہے، اختیارات کا رونا نہیں رونا چاہیے کام کے بارے میں بات کرنی چاہیے، ہم نے ایک روش اختیار کرلی ہے کہ میں اسلئے کام نہیں کر پارہا کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ہے، بہتر ملک، معاشرہ اور ماحول بنانے کے لئے ہمیں اختیارات کے روش سے باہر نکلنا چاہیے، نیک نیتی کے ساتھ کام کرنا چاہیے، وائس چانسلر این اے ڈی یونیورسٹی پروفیسر سروش لودھی نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ یہ اقدام ہم ہفتے کے پورے پانچ دن کریں لیکن ایک دم سے ایسا کردینا مناسب نہیں ہے ہمیں خیال رکھنا ہے کہ کسی کو اس سے تکلیف نہ ہو، اگر کسی کو کوئی تکلیف یا بیماری ہے تو اسکو جامعہ کے اندر گاڑی لانے پر پابندی نہیں ہے، مقصد صحتمندانہ ماحول کو فروغ دینا ہے کسی کو تکلیف دینا نہیں ہے، سب اس پر عملدرآمد کرینگے تو اسے کامیاب بناسکینگے ، پچھلے ہفتے سے یہ کونسیپٹ شروع کیا تھا اور اب تک کوئی شکایت نہیں موصول ہوئی، کرنل ظفر حسین کا یہ آئیڈیا تھا جسے ہر لوگوں سے سراہا ہے، ابھی موسم ایسا ہے جسے کرنا آسان ہے، پچھلے ہفتے کو ہم نے اس کونسیپٹ کے زریعے این اے ڈی یونیورسٹی میں 3.2 کاربن ڈاءآکسائڈ بچائی ہے، قبل ازیں بیرسٹر مرتضی وہاب نے شیخ الجامعہ پروفیسر سروش حشمت لودھی اور سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کے ہمراہ جامعہ کو کاربن نیوٹرل بنانے کے لئے گیٹ سے ایڈمنسٹریشن بلاک تک سائیکلنگ کی۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر 139

اپنا تبصرہ بھیجیں