250 ارب کے مزید ٹیکس لگانے کی تجویز

آئی ایم ایف نے250 ارب کے مزید ٹیکس لگانے کی تجویز دے دی، آئی ایم ایف نے کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں ریلیف دینے کی بھی مخالفت کردی ہے،بجلی ٹیرف میں بھی 1روپے 20 پیسے اضافے کی تجویز دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں بیل آؤٹ پیکج کی اگلی قسط جاری کرنے کیلئے جائزہ رپورٹ کی تیار کر رہا ہے۔
جبکہ پالیسی سطح کے مذاکرات 10 فروری تا 13 فروری تک ہوں گے۔ اس دوران اقتصادی ٹیم سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف وفد نے ٹیکس خسارے کو کم کرنے کیلئے اڑھائی ارب کے مزید ٹیکسز لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ جس سے مہنگائی کا سیلاب آنے سے عوام کی زندگیاں مزید پریشانی اور مشکلات میں گھر جائیں گی۔

آئی ایم ایف نے ریگولیٹری ڈیوٹی میں عوام کو ریلیف دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے درآمدی بل بڑھ جائے گا۔

جس سے مزید معاشی مسائل پیدا ہوں گے۔ آئی ایم ایف نے گردشی قرض کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ ماہانہ یا سہ ماہی کی بجائے ایک ہی بار ٹیرف میں 1روپے 20 پیسے اضافے کی تجویز دی ہے۔ دوسری جانب ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف والے کوشش کر رہے ہیں پاکستان پر معیشت کے علاوہ بھی کوئی دباؤ ڈالا جائے، ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر شرح سود کا تناسب 13.25 سے کم کر کے 9 سے 10 فیصد تک لے کر آنا ہوگا۔
انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر تین فیصد شرح سود کیا گیا تو اس سے 560 ارب کی بچت ہو گی جو سکیورٹی اداروں کو دے سکتے ہیں۔ ملک پر قرضہ بڑھنے کی بڑی وجہ گزشتہ سال بجٹ خسارہ ہوا جو تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ تھا ۔ہم رواں سال 3 ہزار 200 ارب روپے صرف سود کی مد میں دیں گے۔ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ رواں سال ابھی تک سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی نہیں آئی مگر ڈالر کی قیمت قدرے زیادہ ہے جو 148 روپے تک ہونی چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے 4 ہزار ارب روپے کی ضرورت پڑے گی، گزشتہ سال ملک کی جی ڈی پی 1.9 فیصد تھی جو اس سال 1.2 تک رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت اور انڈسٹری منفی اعشاریوں کے ساتھ خوفناک صورتحال پیش کر رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے سال 10 لاکھ لوگ بیروزگار ہوئے ہیں جبکہ رواں سال مزید 12 لاکھ لوگ بیروزگار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا ہے آئی ایم ایف والے کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان پر کوئی دباؤ معیشت کے علاوہ بھی ڈالا جائے۔
urdupoint-report

اپنا تبصرہ بھیجیں