بچوں سے زیادتی، سرعام پھانسی کی قرارداد منظور

وزیر پارلیمانی امورعلی محمد خان کی قرارداد کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی اجلاس میں بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سر عام پھانسی دینے سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔

قرارداد وزیر پارلیمانی امورعلی محمد خان کی جانب سے اسمبلی میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ بچوں کوزیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کی گئی، راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی۔

فواد چوہدری کی سرعام پھانسی کی مذمت

یہ بھی پڑھیے:قصور میں بچوں سے زیادتی، بڑے لوگ ملوث پائے گئے

یہ بھی پڑھیے:کمسن بچوں سے زیادتی اور قتل کے ملزم کو تین بار سزائے موت

یہ بھی پڑھیے:بچوں سے زیادتی میں لاہور سرفہرست

دوسری برسی پر ’زینب الرٹ بل‘ منظور

پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے، اس کے علاوہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر بھی دستخط کر رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور کیس میں بھی سرعام پھانسی کا فیصلہ آیا تھا اس کا کیا ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں