شمالی کوریا کی سرحد – پاکستان تا جاپان موٹر سائیکل ٹور


شمالی کوریا کی سرحد – پاکستان تا جاپان موٹر سائیکل ٹور

شمالی کوریا کی سرحد – پاکستان تا جاپان موٹر سائیکل ٹور
North Korea Border inside the DMZ 🇰🇷 S8 EP 116 | Pakistan to Japan Motorcycle Tour
====================

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کلثوم سہتو نے لیاری بغدادی میں عمارت گرنے کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ تحریری حکم نومے میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے 9 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے ملزمان کے سی آر او اور تحقیقات کے لئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر مزید ملزمان کو گرفتار کرنا ہے۔ تحریری حکم نامے کے مطابق وکلائے صفائی نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔ وکلائے صفائی نے ملزمان کی مقدمے میں گرفتاری پر اعتراض کیا ہے۔ وکلائے صفائی کے مطابق ملزمان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق مقدمے میں ملزمان کا کردار واضح طور پر درج ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق 27 افراد کے ہلاکت کے مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں۔ سرکاری وکیل نے تفتیشی افسر کی ریمانڈ کی استدعا کی حمایت کی۔ تحریری حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ ملزمان کا مقدمے میں نامزد ہونا تسلیم شدہ حقیقیت ہے۔ مقدمے میں دیگر نامعلوم ملزمان کو بھی گرفتار کیا جانا ہے۔ ملزمان کو 14 جولائی تک پولیس تحویل میں دیا جاتا ہے۔ تفتیشی افسر 14 جولائی کو ملزمان کو دوبارہ پیش کریں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کو ملزمان کے کسٹڈی کے ساتھ ساتھ کیس ڈائری اور پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
====================

لیاری کے علاقے بغدادی میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہونے کے واقعے کے بغدادی تھانے میں درج مقدمے کی تفصیلات سامنےآگئی،مقدمہ الزام نمبر 25/237 گورئمنٹ اینڈ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ سندھ میں تعینات سیکشن آفیسرحماد اللہ ولد حیب اللہ کی مدعیت میں قتل بالسبب،جانی ومالی نقصان اورغلفت ولاپروائی کی دفعات کے تحت درج کیا گیامقدمے کے متن کے مطابق فداحسین شیخا روڈ پرواقع پلاٹ نمبر 136 شیٹ ایل وائے 18 جس کا ریکارڈ کے مطابق مجموعی رقبہ 527 گزہے جس پرسال 1986 میں مالک نے دوحصوں پر مشتمل گراؤنڈ پلس پانچ منزلہ عمارت تعیمرکی اورکافی عرصے سے یہ دونوں حصےنہایت خستہ حالت میں تھے اورانسانی رہائش کے قابل نہیں تھےان میں سے ایک حصہ جس میں مجموعی 20 فلیٹس تھے خستہ حالی مالکان اورایس بی سی اے کے افسران کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے گرکرمکمل طورپرزمین بوس ہوگیا جس کے نتجے میں 27 افراد جن میں مرد،خواتین اوربچلے ملبے کے نیچے دب کرجاں بحق اور 4 افراد زخمی ہوئے،معلومات کے مطابق سال 2022 میں مذکورہ عمارت کی خستہ حالی سے متعلق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران وملازمات کومعلومات تھیں جبکہ سال 2022 سے 2025 روزہ وقوعہ تک ڈائریکٹرسید آصف رضوی،سید زرغم حیدر،سید عرفان حیدر نقدی ، اشفاق حسین ، جلیس صدیقی ، فہیم مرتضیٰ جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر جن میں عاصم خان،فہیم صیقی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظفراقبال،بلڈنگ انسپکٹرذوالفقارشاہ،ظفراقبال،ریٹائرڈ کلرک جمیل اوریونس خان 4جولائی 2025 عمارت گرنے تک ایس بی سی اے کے افسران عمارت کی خستہ حالی سے مکمل طورپرآگاہ تھےلیکن اپنی سرکاری ڈیوٹی اوراختیارات کی بجاآوری میں مکمل طورپرغفلت ولاپروائی،برتتے ہوئے کوئی بھی سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہے اوراس سے متعلق اپنے دفتری ریکارڈ میں جان بوجھ کرعمارت کی خستہ حالی کااندراج نہیں کیاجن کی غفلت و لاپروائی کی وجہ سے عمارت کا ایک حصہ گرگیا اور27 افراد کی موت واقع ہوگئی عمارت کے موجودہ مالکان رحیم بخش خاصخیلی ولد یارمحمد ودیگرمالکان جنہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے عمارت خستہ حال ہے اورانسانی رہائش کے قابل نہیں ہےعمارت سے متعلق غفلت ولاپروائی برتتے ہوئے متعدد فلیٹس اقیلتی کمیونیٹی کوکرائے پردیئے میں اپنے ادارے کے افسران کی ہدایت پر رپورٹ کرنے آیا ہوں سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے مذکورہ افسران اورعمارت کے موجودہ مالکان و دیگر کی غفلت و لاپروائی کی وجہ سے عمارت گرکرمکمل زمین بوس ہوئی جس میں 27 افراد جاں بحق اور4 افراد زخمی ہوئے جانی ومالی نقصان ہوا اب رپورٹ کرنے آیا ہوں ۔۔
======================

جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کلثوم سہتو

بغدادی لیاری میں بلڈنگ گرنےکامقدمہ

پولیس نے ملزموں کو عدالت میں پیش کردیا

پولیس نے عدالت سے جسمانی ریمانڈکی استدعاکردی

ملزموں کاتفتیش کیلئےزیادہ سے زیادہ ریمانڈ دیاجائے۔انسپکٹر زاہدشاہ تفتیشی افسر

ملزموں کےپاس تمام دستاویزی ریکارڈ ہے۔تفتیشی افسر

ملزموں سے ریکارڈ حاصل کرناہے۔تفتیشی افسر

ملزموں کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ27افراد جاں بحق ہوئے۔تفتیشی افسر

واقعہ میں چار افرادزخمی بھی ہوئے۔انسپکٹر زاہد شاہ

ملزموں میں بلڈرعبدالرحیم۔عاصم خان۔آصف رضوی۔عرفان نقوی۔ سیدزرغام حیدر۔اشفاق کھوکھر۔فہیم صدیقی۔ظفراقبال ۔ذوالفقار شاہ ۔جمیل اور یونس خان شامل ہیں

ملزموں میں جلیس ۔فہیم بھی شامل ہیں

بلڈر کیاہے جوڈیشل مجسٹریٹ

عبدالرحیم کوآگےلایاگیا۔

یہ ملزم بلڈر نہیں اسکااپنابیٹا اور داماد اسی بلڈنگ میں جاں بحق ہواہے۔زیشان راجپر وکیل صفائی

27افراد کےمرنےکاافسوس ہے۔شہاب سرکی ایڈووکیٹ

یہ بلڈنگ 1986میں بنی تھی۔شہاب سرکی وکیل صفائی

گرفتارکرنےوالوں کویہ بھی نہیں پتہ کہ بلڈنگ بنانےکی جازت کس افسر نے دی ۔شہاب سرکی

کمپلیشن لیٹرکس نےجاری کیا۔بلڈنگ کااپروول کس نے دیاشہاب سرکی

استغاثہ نےریمانڈپیپرپرلکھاہے کہ انکےپاس ریکارڈ نہیں ہے۔جی ایم قریشی ایڈووکیٹ

صوبائی وزیرکی پریس کانفرنس کے بعد لوگوں کو گرفتار کرلیا۔جی ایم قریشی وکیل صفائی

کچھ لوگوں کوگرفتارکرکےچھوڑ دیاگیا۔پسند ناپسند کی بنیادپرگرفتاریاں کی گئی ہیں۔وکیل صفائی

بلڈنگ کاذمےدار ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے ہے۔وکیل صفائی

پولیس ریکارڈ حاصل کرناچاہتی ہےتو کرلے اسے کون روک سکتاہے۔وکیل صفائی

عبدالرحیم خود متاثرہ فریق ہے یہ بلڈرنہیں ہے۔زیشان راجپر وکیل صفائی

عبدالرحیم کےگھرہانچ افراد جاں بحق ہوئے۔زیشان راجپر ایڈووکیٹ

عبدالرحیم کےنام کانہ کوئی کرایہ نامہ ہےنہ کوئی اوونرشپ لیٹر۔وکیل صفائی

پچاس سال پہلے بلڈنگ بنی تھی۔کس افسر نےاس کی اجازت دی کسی کو نہیں پتہ۔جاویدچھتاری وکیل صفائی

یہصرفا حراسمنٹ کی جاری ہے۔کوئی ثبوت نہیں ہے۔جاویدچھتاری ایڈووکیٹ

یہ کیس ہی نہیں بنتا۔کم ازکم ملزموں کو ضمانت پر رہاکیاجائے۔وکیل صفائی

تفتیش کےبغیرگرفتاری غیرقانونی ہے۔شہاب سرکی وکیل صفائی

یہ 14دن کی بجائے تیس دن کےریمانڈ میں کیاثابت کردیں گے۔وکیل صفائی

جس بڈ کاوکیل سرکارذکرکررہےہیں وہساتھ والی بڈنگ ہے۔شہاب سرکی ایڈووکیٹ

.ریمانڈ کافیصلہ کچھ دیرکے بعد کیاجائے گا۔عدالت

جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کلثوم سہتو کی عدالت میں پولیس نے لیاری کے علاقے بغدادی میں 5 منزلہ عمارت گرنے سے 27ا فراد کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں
پولیس نے ابتدائی اطلاعی رپورٹ جمع کرادی۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ پولیس نے ایس بی سی اے کے 6 ڈائریکٹرز اور مالک سمیت 14 ملزمان کو قصور وار قرار دیا ہے۔ مقدمہ لوکل گورنمنٹ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ سندھ کے افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
1986 میں مالک نے 2 حصوں پرمشتمل گراؤنڈ پلس 5 کی عمارت تعمیر کی۔
کافی عرصے سے دونوں حصے خستہ حال اور ناقابل رہائش تھے۔
20 فلیٹ پرمشتمل ایک حصہ ایس بی سی اے کی غفلت کے باعث زمین بوس ہوا ہے۔ حادثے میں مرد،خواتین اوربچوں سمیت 27 افراد اور 4 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت خستہ حال ہونے سے متعلق ایس بی سی اے افسران کو سال 2022 سے علم تھا۔ معلوم ہونے کے باوجود ایس بی سی اے افسران نے اقدامات نہیں کئے۔
افسران نے غفلت، لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ جس سے عمارت زمین بوس ہوئی۔
سندھ ہائیکورٹ میں اجرک والی نمبر پلیٹس مفت فراہمی کے لئے درخواست کی سماعت 14 جولائی کو ہوگی۔ ہائیکورٹ میں سماجی کارکن فیضان حسین نے نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی ہے۔ درخواست کی سماعت 14 جولائی کو ہوگی۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے فیصلے سے غریب شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی نمبر پلیٹ نا لگانے والے شہریوں کی گاڑیاں ضبط کرلی جائیں گی۔ شہریوں نے پرانی نمبر پلیٹس رقم کی ادائیگی کے بعد حاصل کی تھیں۔ حکومت کو نئی ڈیزائن کی نمبر پلیٹ مفت فراہم کرنی چاہیں۔ پرانی نمبر پلیٹس بھی حکومت کی جاری کردہ ہی ہیں۔ نئی نمبر پلیٹس غیر موجودگی پر جرمانے اور ضبطگی کی کوئی وجوہات نہیں ہیں۔ موٹر وہیکل اور ٹریفک پولیس نے نئی نمبر پلیٹس کی بنیاد پر کاروبار شروع کردیا ہے۔ نمبر پلیٹ کے حصول کے لیے رقم وصول کی جارہی ہے۔ سرکاری ادارے نئی نمبر پلیٹس مہینوں انتظار کرا رہے ہیں۔ ٹریفک پولیس شہریوں کو غیر ضروری طور پر حراساں کررہی ہے۔ شہریوں کو مفت نئی نمبر پلیٹس جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔ شہریوں پر جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی بند کی جائے۔ درخواست میں سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،موٹر وہیکل رجسٹریشن ونگ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو فریق بنایا گیا ہے۔