ممتاز ترقی پسند شعرا میں شمار، پدم شری یافتہ اور مشہور شاعر” غلام ربانی تاباںؔ صاحب “ کا یومِ وفات

آج – 7؍فروری 1993

ممتاز ترقی پسند شعرا میں شمار، پدم شری یافتہ اور مشہور شاعر” غلام ربانی تاباںؔ صاحب “ کا یومِ وفات…

غلام ربانی تاباں، ۱۵؍فروری ۱۹۱۴ء کو قائم گنج ضلع فرخ آباد میں پیدا ہوئے۔ آگرہ کالج سے ایل ایل بی کی ، کچھ عرصہ وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے لیکن شاعرانہ مزاج نے انہیں دیر تک اس پیشے میں نہیں رہنے دیا ۔ وکالت چھوڑ کر دہلی آگئے اور مکتبہ جامعہ سے وابستہ ہوگئے اور ایک لمبے عرصے تک مکتبے کے جنرل مینیجر کے طور پر کام کرتے رہے ۔
تاباں کی شاعری کی نمایاں شناخت اس کا کلاسیکی اور ترقی پسندانہ فکری وتخلیقی عناصر سے گندھا ہونا ہے ۔ ان کے یہاں خالص فکری اور انقلابی سروکاروں کے باجود بھی ایک خاص قسم تخلیقی چمک نظر آتی ہے جس ترقی پسند فکر کے تحت کی گئی شاعری کا بیشتر حصہ محروم نظر آتا ہے ۔ تاباں نے ابتدا میں دوسرے ترقی پسند شعرا کی طرح صرف نظمیں لکھیں لیکن وہ اپنے پہلے شعری مجموعے’ سازلرزاں ‘(۱۹۵۰) کی اشاعت کے بعد صرف غزلیں کہنے لگے ۔ ان کی غزلوں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے ۔ جن میں ’ حدیثِ دل ‘ ’ ذوقِ سفر ‘ ’ نوائے آوارہ ‘ اور ’ غبارِ منزل ‘ شامل ہیں ۔ تاباں نے شاعری کے علاوہ اپنی فکر کو عام کرنے کیلئے صحافیانہ نوعیت سیاسی ، سماجی اور تہذیبی مسائل پر مضامین بھی لکھے اور ترجمے بھی کئے ۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’ شعریات سے سیاسیات تک ‘ کے نام سے شائع ہوا ۔
تاباںؔ کوان کی زندگی میں بہت سے انعامات واعزات سے بھی نوازا گیا ۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ، یوپی اردو اکادمی ایوارڈ اور کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ کے علاوہ پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا گیا ۔ پدم شری کا اعزاز تاباں نے ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واپس کردیا تھا ۔
۷؍فروری ۱۹۹۳ء کو تاباںؔ کا انتقال ہوا ۔

🦋 پیشکش : اعجاز زیڈ ایچ

✦•───┈┈┈┄┄╌╌╌┄┄┈┈┈───•✦

🔲 ممتاز شاعر غلام ربانی تاباںؔ کے یوم وفات پر منتخب اشعار بطور خراجِ عقیدت… 🔲

رہِ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے
شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے

بستیوں میں ہونے کو حادثے بھی ہوتے ہیں
پتھروں کی زد پر کچھ آئنے بھی ہوتے ہیں

چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے
پیو شراب کہ چہرے پہ نور آ جائے

نکھر گئے ہیں پسینے میں بھیگ کر عارض
گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی

کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے
کہ ماہتاب تہ آفتاب آیا ہے

غمِ زندگی اک مسلسل عذاب
غمِ زندگی سے مفر بھی نہیں

یادوں کے سائے ہیں نہ امیدوں کے ہیں چراغ
ہر شے نے ساتھ چھوڑ دیا ہے تری طرح

میرے افکار کی رعنائیاں تیرے دم سے
میری آواز میں شامل تری آواز بھی ہے

یہ چار دن کی رفاقت بھی کم نہیں اے دوست
تمام عمر بھلا کون ساتھ دیتا ہے

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے تاباںؔ
رہِ حیات میں ایسے مقام بھی آئے

تباہیوں کا تو دل کی گلہ نہیں لیکن
کسی غریب کا یہ آخری سہارا تھا

آنسوؤں سے کوئی آواز کو نسبت نہ سہی
بھیگتی جائے تو کچھ اور نکھرتی جائے

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے
یہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے

لب نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے
ہم اہل شوق زبان نظر سمجھتے ہیں

منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت
ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف

غبار راہ چلا ساتھ یہ بھی کیا کم ہے
سفر میں اور کوئی ہم سفر ملے نہ ملے

جنوں میں اور خرد میں در حقیقت فرق اتنا ہے
وہ زیر در ہے ساقی اور یہ زیر دام ہے ساقی

ادھر چمن میں زر گل لٹا ادھر تاباںؔ
ہماری بے سر و سامانیوں کے دن آئے

قربتیں ہی قربتیں ہیں دوریاں ہی دوریاں
آرزو جادو کے صحرا میں مجھے دوڑائے ہے

ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت
دل سلامت ہے تو دل کے لئے آزار بہت

ملے گا درد تو درماں کی آرزو ہوگی
تمام عمر غرض صرف جستجو ہوگی

یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیں
عروجِ فکر و فروغ نظر کی منزل ہے

میں نے کب دعویٰ الہام کیا ہے تاباںؔ
لکھ دیا کرتا ہوں جو دل پہ گزرتی جائے

●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●

🌸 غلام ربانی تاباںؔ 🌸

انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ

اپنا تبصرہ بھیجیں