ملک کے کئی علاقوں میں مون سون کی موسلادھار بارشوں نے تباہی مچادی ہے اور تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 87 تک جا پہنچی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ 26 جون سے 9 جولائی کے درمیان شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث مختلف حادثات میں 87 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں 42 بچے، 29 مرد اور 16 خواتین شامل ہیں۔
ان حادثات میں 149 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 61 بچے، 52 مرد اور 36 خواتین شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے سات کلومیٹر سڑکوں کو متاثر کیا، تین پل ٹوٹ گئے، 171 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 71 مکان مکمل طور پر گر کر تباہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ 106 مویشیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
مزید نقصانات سے بچاؤ کے لیے حکام نے الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا موجودہ سلسلہ 13 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ تمام ڈپٹی کمشنرز متعلقہ اداروں اور محکموں کے ساتھ مل کر ہنگامی حالات کے لیے عملہ اور مشینری تیار رکھیں، نشیبی علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنایا جائے اور چوکنگ پوائنٹس پر پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں، خستہ حال عمارتوں اور کچے گھروں کے قریب نہ جائیں، بچوں کو گلیوں اور نشیبی علاقوں میں جمع پانی سے دور رکھیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔























