ٹیکساس کا سیلاب: پیشگی وارننگ سسٹمز کی اہمیت پر زور

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس میں حالیہ شدید سیلاب نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بروقت انتباہی نظام کتنے ضروری ہیں۔ ادارے کے مطابق اچانک اور شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیلاب ہر سال دنیا بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان لے لیتے ہیں اور عالمی سطح پر سیلاب سے ہونے والا 85 فیصد جانی نقصان اور 50 ارب ڈالر کا معاشی خسارہ انہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق آہستہ آہستہ بڑھنے والے دریائی سیلابوں کے مقابلے میں اچانک آنے والے طوفانی سیلاب زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ان میں لوگوں کو بچاؤ کی تیاری کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ اس لیے ایسے خطرات کی پیشگی اطلاع دینے والے نظام بہت اہم ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ 4 جولائی کو ٹیکساس میں آنے والے اس غیر معمولی سیلاب نے 100 سے زائد لوگوں کی جان لی اور علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ رپورٹ کے مطابق 3 اور 4 جولائی کی درمیانی شب کیر کاؤنٹی کے قریب دریائے گواڈالوپ میں 46 سینٹی میٹر (تقریباً 18 انچ) بارش ہونے سے پانی کا بہاؤ اچانک خطرناک حد تک بڑھ گیا۔

امریکی محکمہ موسمیات نے سیلاب کی ممکنہ شدت کے بارے میں 12 گھنٹے پہلے انتباہ جاری کیا تھا اور تین گھنٹے قبل اچانک سیلاب کی پیش گوئی بھی کر دی گئی تھی۔ اس وارننگ کو مقامی ریڈیو، ہنگامی پیغامات اور ٹی وی چینلز پر نشر بھی کیا گیا، لیکن بہت سے لوگ، خاص طور پر کیمپوں میں چھٹیاں گزارنے والے بچے اور ان کے خاندان بروقت اس سے باخبر نہ ہو سکے۔

سیلاب کے دوران دریا کی سطح تقریباً 8 میٹر تک بلند ہو گئی جو 45 منٹ تک برقرار رہی۔ ایک گرلز اسکول کا سمر کیمپ بھی اس شدید سیلاب کی زد میں آ گیا اور کم از کم 27 بچے پانی کی نذر ہو گئے جبکہ اب تک 160 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق اچانک سیلاب کوئی نئی بات نہیں، لیکن شہروں کی طرف آبادی کی تیز رفتار منتقلی، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گرمی نے ان خطرات کو اور بڑھا دیا ہے۔ گرم موسم میں فضاء میں نمی زیادہ ہوتی ہے جس سے طوفانی بارشیں زیادہ شدت سے ہوتی ہیں۔

اس کی ایک مثال 2022 کا پاکستان کا تباہ کن سیلاب ہے جس میں 1,700 سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے۔ پچھلے سال یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں آنے والے سیلابوں نے مجموعی طور پر 36 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ حال ہی میں نیپال اور چین کی سرحد پر بھی شدید سیلاب سے دونوں ملکوں کو جوڑنے والا بڑا پل بہہ گیا۔

ڈبلیو ایم او اس وقت 70 سے زیادہ ممالک میں ‘اچانک سیلاب رہنمائی نظام’ چلا رہا ہے، جس میں سیٹلائٹ، ریڈار اور جدید موسمیاتی ڈیٹا کو ملا کر خطرے کی پیشگی اطلاع دی جاتی ہے اور رکن ممالک کو آفات سے نمٹنے کی تیاری میں عملی مدد فراہم کی جاتی ہے۔