ہم شہری اور ہمارے سرکاری محکمے!

تحریر: ملک شفقت اللہ

شہریت، کسی بھی ریاست کے کسی بھی فرد کی وہ قانونی حیثیت ہے جو اس کے لیے تمام بنیادی حقوق اور سہولیات کی فراہمی کی ضامن ہوتی ہے۔

شہریت کی اس قانونی حیثیت میں سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ جہاں کوئی فرد اپنی ریاست اور وطن کے ساتھ تمام قانونی اور سماجی اقدار کی پاس داری کا عہد کرتا ہے، وہیں یہ حکومتی اور ادارہ جاتی احکامات اور قوانین کا بھی پابند ہو جاتا ہے۔

ایک اچھا شہری ہی وہ ہوتا ہے جو ریاست کے تمام قوانین کی پاس داری کرتا ہو اور ترقی و خوش حالی میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ وہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتا ہے اور اسی طرح ایک اعلیٰ اقدار کا حامل معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

اسی طرح ایک کام یاب ریاست وہی ہوتی ہے جو عوام کے بنیادی حقوق ادا کرے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہاں عوام و ریاست اپنے، اپنے حقوق و فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں۔

جب معاشروں میں انصاف کیا جائے تو وہاں استحصال کم سے کم ہوتا ہے اور امن و توازن برقرار رہتا ہے۔ اگر ہم ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے نظام کا جائزہ لیں تو ہمیں ان کی تنزلی اور عدم استحکام کے پیچھے استحصال کی مختلف شکلیں نظر آتی ہیں۔

ہم اپنے ملک کی بات کریں تو بے شمار چیلنجوں کے ساتھ اسے اقتصادی پابندیوں کا بھی سامنا رہا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے پاکستان کے اداروں کی انگریز ایس او پیز کو بدلنے کے بجائے اسی پر قائم ہیں اور خود بھی نظام کا رونا روتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اختیارات اور طاقت کا ناجائز اور غیر قانونی استعمال اور سرکاری اداروں میں مداخلت بھی کرتے ہیں اور امتیازی سلوک اور استحصالی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

ایک طرف تو حکومت کہتی ہے کہ ہم اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ دوسری طرف ہر قانونی کام میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور اداروں کی سطح پر اصلاحات اور نظام کو بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ تعلیم و صحت جیسے شعبے تو ایک طرف یہاں تو عدلیہ کے ماتحت یا اس کے ذیلی ادارے بھی استحصال سے پاک نہیں اور اسی طرح متعلقہ دیگر محکمے بربادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ایک طرف تو محکمہ صحت، اس حوالے سے عالمی قوانین پر عمل درآمد اور اصول و ضوابط لاگو کروانے کے لیے سرگرم رہتا ہے تو کبھی ہیلتھ کیئر کمیشن، کبھی فارمیسی کونسل اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی صورت کام کرتا نظر آتا ہے۔ ان کی کارروائیوں سے یوں لگتا ہے جیسے ریاست ماں ہونے کا حق ادا کررہی ہے، لیکن جب ریگولرائزیشن کی طرف جائیں تو اتنے قوانین اور شرائط ہیں کہ کوئی بھی شخص اسے پورا نہیں کرسکتام، لیکن جیسے ہی کلرکوں یا چپڑاسیوں کی مٹھی گرم کی جاتی ہے تو ہر دروازہ گویا آپ ہی آپ کھل جاتا ہے۔

یہی ماتحت عدالتوں میں ہوتا ہے جس کی تفصیل میں جانے کی شاید ضرورت نہیں کیوں کہ ہر باشعور شہری اس سے واقف ہے۔ اداروں میں اس وقت تک جائز کام بھی نہیں ہوسکتا جب تک آپ کی کسی جاگیر دار یا عہدے دار کی سفارش نہ لائے ہوں یا آپ کی جیب میں پیسہ نہ ہو۔

غرض یہ کہ پاکستان میں سبھی ادارے کرپشن کی لپیٹ میں ہیں اور اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ نظام کی بہتری کے ساتھ تعلیم و صحت کے محکموں میں اصلاحات کا عمل جلد شروع کرے اور شہریوں کو یہ احساس دلائے کہ ان کا شناختی کارڈ اور شہریت کی دوسری دستاویز رسمی اور محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے۔

عالمی سیاست، خصوصاً ایشیا میں امریکا و دیگر طاقتوں کے مفادات اور پاکستان اور پڑوسی ممالک کی سیاست بلاگر کی دل چسپی کا موضوع ہیں۔ جھنگ سے تعلق رکھنے والے ملک شفقت اللہ شاعر بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں