ایک گاؤں میں ایک دودھ والے کے پاس پانچ گائیں ہیں جو دودھ دیتی ہیں- اس دودھ کو قریبی شہر میں بیچ کر یہ گوالا اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا

نخالص دودھ

نظام الدین
فروری 6، 2020

ایک گاؤں میں ایک دودھ والے کے پاس پانچ گائیں ہیں جو دودھ دیتی ہیں- اس دودھ کو قریبی شہر میں بیچ کر یہ گوالا اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا ہے- لیکن دودھ بہت سستا ہو گیا ہے اس لیے دودھ والے کا گذارا مشکل سے چلتا ہے- اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے یہ گوالا دودھ میں پانی ملا کر دودھ کی مقدار بڑھا دیتا ہے- گاؤں میں پینے کا پانی ملنا مشکل ہے- اس لیے گوالا آسان کام کرتا ہے- وہ دودھ میں جوہڑ کا پانی ملا کر بیچنے لگتا ہے-

اس سے اس کی آمدنی تو بڑھ جاتی ہے لیکن جوہڑ کا پانی ملانے سے دودھ گدلا ہو جاتا ہے جس سے لوگوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دودھ میں پانی ملایا گیا ہے- گوالے کے پاس اس مسئلے کا بھی علاج موجود ہے- گوالا دودھ میں چاک پیس کر ملا دیتا ہے یا پلاسٹر آف پیرس گھول کر ڈال دیتا ہے- اس سے دودھ گاڑھا بھی ہو جاتا ہے اور اس کا رنگ بھی دوبارہ سفید ہو جاتا ہے

لیکن لوگ شکایت کرتے ہیں کہ دودھ بہت جلد خراب ہو جاتا ہے- جوہڑ کے پانی میں بہت سے جراثیم ہوتے ہیں جن کی وجہ سے دودھ میں جلد ہی بو آنے لگتی ہے اور جوش دینے پر دودھ پھٹ جاتا ہے- گوالے کے پاس اس کا علاج بھی موجود ہے- گوالا کیمسٹ کی دکان سے formaldehyde خرید کر دودھ میں ملانے لگتا ہے- formaldehyde انسان کے لیے انتہائی خطرناک کیمیکل ہے لیکن اس سے بیکٹیریا مر جاتے ہیں اور دودھ دیر تک خراب نہیں ہوتا- یہی نہیں، formaldehyde کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے جس سے دودھ کا ذائقہ بھی بہتر ہو جاتا ہے

اب یہ گوالا پہلے کی نسبت دگنے پیسے بنا رہا ہے اور مزے سے زندگی گذار رہا ہے- لیکن اسے اب بھی اپنا منافع بڑھانے کی فکر ہے- گائیں چارہ بہت کھاتی ہیں اور چارہ مہنگا ہوتا جا رہا ہے- گوالا پاس ہی آٹے کی مل سے چھان بورا خرید کر اپنی گائیوں کو کھلانے لگتا ہے- آٹے کی مل کا مالک بھی خوش ہے کہ پہلے وہ یہ چھان بورا پھینک دیتا تھا، اب اسے بیچنے لگا ہے- یہ چھان بورا نمی کی وجہ سے خراب ہو چکا ہے اور اس میں بو پڑ چکی ہے- لیکن گائیوں کے پاس اسے کھانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے، انہیں اپنا پیٹ بھرنا ہے- لیکن اس چھان بورے سے گائیوں کا دودھ پتلا ہوتا جا رہا ہے اور اس میں غذائیت بہت کم رہ گئی ہے-

غذائیت کی فکر تو گوالے کو نہیں ہے لیکن پتلا دودھ؟ لوگ شکایتوں کے انبار لگا دیں گے- چنانچہ گوالا دودھ میں پلاسٹر آف پیرس کی مقدار بڑھا دیتا ہے- اب تو اس کے گھر میں چاندی ہی چاندی ہے- اس کے دودھ سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں، کئی بچے ڈائیریا اور دوسری بیماریوں سے ہلاک ہو چکے ہیں- لیکن شہر میں تعلیم کم ہے- لوگ موت کو خدا کی مرضی سمجھ کر صبر شکر کر کے بیٹھ جاتے ہیں- حکومت کو بھی عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے- گوالے اور آٹے کی مل کے مالک، دونوں مقامی پولیس اور سیاست دانوں کو بھتہ دیتے ہیں اس لیے پولیس انہیں کچھ نہیں کہتی- ڈاکٹروں کو بھی شک ہے کہ بچوں کی اموات جراثیم سے لدے دودھ کی وجہ سے ہو رہی ہے- لیکن اگر دودھ صاف ہو گیا اور بچے صحت مند ہونے لگے تو ان ڈاکٹروں کی لگی بندھی آمدنی ختم ہو جائے گی- اپنی روزی پر بھلا ڈاکٹر کیوں لات ماریں گے؟

آپ کے خیال میں یہ کہانی کس ملک کی ہے؟ پاکستان کی؟ جی نہیں- بھارت کی؟ جی نہیں- فلپائن کی؟ جی نہیں- یہ کہانی فلپائن کی بھی نہیں ہے-

یہ کہانی ہے امریکہ کی- جی ہاں امریکہ کی- لیکن آج کے امریکہ کی نہیں بلکہ انیسویں صدی کے امریکہ کی- جب امریکہ میں صحت عامہ کے حوالے سے کوئی قوانین نہیں تھے- جب امریکہ میں ہمارے ہاں کی طرح رشوت ستانی، قانون شکنی، اور ملاوٹ عام تھیں- لیکن آج امریکہ میں کوئی ایسا دودھ بیچنے کا سوچ بھی نہیں سکتا- آج دودھ کی بوتل پر (اور کھانے پینے کی ہر چیز کی پیکنگ پر) ان تمام اجزاء کی تفصیل دینا قانوناً فرض ہے جن سے وہ شے بنائی گئی ہے یا جو اجزاء اس میں شامل کیے گئے ہیں- اس کی وجہ سے امریکہ میں غذائیں عام طور پر خالص ہوتی ہیں اور ان میں جو بھی کیمیکل یا preservatives شامل ہوں ان کی تفصیل پیکنگ پر موجود ہوتی ہے-

یہ قوانین خود بخود نہیں بن گئے- اس کے لیے تعلیم یافتہ افراد کو بہت جدوجہد کرنا پڑی تھی- اپنے سیاست دانوں پر دباؤ ڈالنا پڑا تھا- رشوت خور پولیس والوں اور افسروں کا اخباروں میں بھاںڈا پھوڑا گیا تھا- یونیورسٹی میں پروفیسرز اور سائنس دانوں نے اشیا میں ملاوٹ کو ثابت کیا اور اپنی ریسرچ کو شائع کیا- یوں آہستہ آہستہ عوام کو احساس ہونے لگا کہ لوگ اپنے منافع کے لیے ان کی صحت سے کھیل رہے ہیں- چنانچہ عوام نے سیاست دانوں پر دباؤ ڈالا اور ان سے ایسے قوانین پاس کروائے جن سے ملاوٹ کرنا نہ صرف جرم قرار پایا بلکہ ملاوٹ کرنے والوں کو واقعی سخت سزائیں بھی دی گئیں- یوں آہستہ آہستہ ایک کلچر، ایک رویہ بن گیا کہ اب کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کرنا اس قدر گھناؤنا جرم سمجھا جاتا ہے کہ اب کوئی ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا

اس آرٹیکل کے لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم تمام تعلیم یافتہ افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے طور پر ملاوٹ کرنے والوں، جعلی دوا بنانے اور بیچنے والوں، رشوت خوروں اور قانون شکنی کرنے والوں کا بھانڈا سر عام پھوڑیں- آج سوشل میڈیا کی وجہ سے ایسا کرنا، انیسویں صدی کی نسبت کہیں آسان ہو چکا ہے-

تو کیا آپ سب یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم نہ صرف خود خرید و فروخت میں دیانت داری سے کام لیں گے بلکہ دوسروں کو بھی دیانت داری پر مجبور کریں گے اور قانون توڑنے والوں کو ایکسپوز کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کریں گے؟ اگر ہم سب اپنی معاشری ذمہ داریاں نبھائیں تو کم از کم یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں غذاؤں میں ملاوٹ کم ہو جائے گی، جعلی ادویات کا بیچنا زیادہ مشکل ہو جائے گا، اور ہمارے بچے خالص غذا اور خالص دوائیں حاصل کر پائیں گے



اپنا تبصرہ بھیجیں