ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 100 سے تجاوز کر گئیں

امریکی ریاست ٹیکساس شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 104 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ اب بھی 41 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں دن رات جاری ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

سب سے زیادہ جانی نقصان کیئر کاؤنٹی میں ہوا ہے جہاں اب تک 75 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس علاقے میں واقع لڑکیوں کا معروف سمر کیمپ ’’مسٹک‘‘ بھی شدید متاثر ہوا ہے جہاں طالبات اور عملے کے افراد سمیت کم از کم 27 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے وقت کیمپ کے اردگرد بھی کئی لوگ تفریح کی غرض سے موجود تھے جن کے بارے میں ابھی مکمل معلومات سامنے نہیں آئیں۔

کیمپ انتظامیہ کے مطابق اب بھی 10 لڑکیاں اور ایک کیمپ کونسلر لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ٹریوس کاؤنٹی، برنیٹ کاؤنٹی، ولیمسن کاؤنٹی، کنڈل کاؤنٹی اور ٹام گرین کاؤنٹی شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں کیچڑ اور ملبے میں سے راستے بناتے ہوئے امدادی کام انجام دے رہی ہیں تاہم انہیں زہریلے سانپوں سمیت کئی خطرات کا بھی سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کئی لاشوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو رد کر دیا ہے کہ نیشنل ویدر سروس (این ڈبلیو ایس) کے بجٹ میں ممکنہ کٹوتیوں سے قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے۔

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت لاپتہ افراد کی تلاش میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ حکام نے مقامی آبادی کو محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔