حکومت نے اعلیٰ سرکاری افسران کی کارپوریٹ آمدن پر عائد پرانی حد ختم کر دی ہے، جس کے بعد اب بیوروکریٹس لامحدود مالی فوائد حاصل کر سکیں گے۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نئے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 10 جولائی 2014 کو جاری ہونے والا وہ حکم نامہ واپس لے لیا گیا ہے جس کے تحت سینئر افسران کے لیے کارپوریٹ اداروں کے بورڈز سے ملنے والی سالانہ آمدنی کی حد 10 لاکھ روپے مقرر تھی۔ اس سے زائد آمدنی سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازمی تھا۔ اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پالیسی کچھ عرصہ لاگو رہی لیکن بعد میں اس پر عملدرآمد کم ہوگیا۔ گزشتہ برس اسے دوبارہ سختی سے لاگو کرنے کا کہا گیا تھا، مگر اب حکومت نے ابتدائی طور پر اسے مالی سال 2024-25 کے لیے واپس لے لیا ہے، یعنی اب افسران کو بورڈز سے ملنے والی آمدنی قانونی تصور کی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ نے اس کے ساتھ ایک اور اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں کفایت شعاری اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان اقدامات کو اب وفاقی حکومت کے ماتحت اداروں، سرکاری کاروباری اداروں اور قانونی و ریگولیٹری باڈیز تک بڑھا دیا گیا ہے۔
نئے احکامات کے تحت ایس او ایز گورننس اینڈ آپریشنز ایکٹ 2023 کی دفعہ 35 کے تحت کفایت شعاری کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس میں سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی، نئے عہدے بنانے پر پابندی، سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج اور غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر بھی مکمل روک لگائی گئی ہے۔
Ask ChatGPT























