چشتیاں کے قریب ایک گاؤں کی بہادر لڑکی امامہ رباب نے اپنی معذوری کو رکاوٹ نہیں بنایا بلکہ دوسروں کی مدد کرنے کا عزم کر لیا۔
اے آر وائی نیوز سے بات چیت میں امامہ نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ایک سڑک حادثے کی وجہ سے انہیں اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہونا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے، اور آج کے دور میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، خاص طور پر معذور خواتین کے لیے یہ مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
امامہ نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی خواتین ہیں جن کی آواز سننے والا کوئی نہیں، اسی لیے میں نے یونیورسٹی میں ایک سوسائٹی کا حصہ بن کر ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سوسائٹی میں خواتین کے مسائل جیسے گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی اور دیگر مشکلات سن کر ان کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ اکثر یہ خواتین اپنے مسائل چھپاتی ہیں کیونکہ انہیں نہ تو گھر والے سمجھتے ہیں اور نہ ہی معاشرہ۔ ایسے میں یہ اندر ہی اندر اذیت میں مبتلا رہتی ہیں۔
ہم انہیں سمجھاتے ہیں کہ کیسے اپنی زندگی کو بہتر بنانا ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہے۔ اس کے لیے تعلیم اور ہنر سکھانے کے پروگرام بھی چلائے جاتے ہیں۔
امامہ رباب نے کہا کہ انہیں پینٹنگ کا شوق ہے اور وہ گانا بھی پسند کرتی ہیں، جسے اپنے فارغ وقت میں پورا کرتی ہوں۔























