ملک کے کئی حصوں میں تیز اور موسلا دھار بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم کے سپل وے کھول دیے گئے، جس سے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی اور متعدد دیہات کا زمینی رابطہ کٹ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مون سون کا حالیہ طاقتور اسپیل پورے ملک میں جاری ہے۔ لاہور، ملتان، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، بہاولپور اور لیہ میں وقفے وقفے سے شدید بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی موسلا دھار بارش سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔
کراچی میں ہلکی رم جھم نے موسم خوشگوار بنا دیا جبکہ قلات میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش نے نشیبی علاقے ڈبو دیے اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ پیدا کر دیا۔ ہنگو میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی جبکہ ہری پور میں تیز بارش نے لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنی اور کئی سڑکیں بند ہو گئیں۔
مون سون کے نئے اسپیل کے باعث دریا بپھرنے لگے ہیں اور چھوٹے بڑے ندی نالوں میں طغیانی دیکھی جا رہی ہے۔ تربیلا ڈیم کے سپل وے کھلنے سے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں کئی دیہات کا زمینی راستہ بند ہو گیا ہے۔ ڈی جی خان کی وڈور ندی میں بھی بڑا سیلابی ریلا آیا جس نے کئی دیہات کا تحصیل غازی سے رابطہ منقطع کر دیا۔ شکرگڑھ کے قریب نالہ بیئں میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی جبکہ صوابی میں شدید بارش سے سڑکیں بند ہو گئیں۔ بلوچستان کے علاقے واشک میں بھی ندی نالے ابل پڑے ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ بارشوں کے باعث پیش آنے والے حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے 10 جولائی تک مزید شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بارشوں کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے این ڈی ایم اے اور متعلقہ انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔























