گلگت بلتستان میں گزشتہ کئی دہائیوں کا شدید ترین گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسم کی یہ غیرمعمولی تبدیلیاں اسی طرح جاری رہیں تو آنے والے وقت میں اس کی شدت اور بھی بڑھ سکتی ہے، جو پورے خطے کیلئے خطرناک ثابت ہو گی۔
تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں شدید گرمی اور طویل خشک سالی نے 55 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ ضلع نگر، ہنزہ اور داریل سمیت کئی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کے نتیجے میں جھیلیں پھٹ گئی ہیں، جس سے اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ان سیلابوں سے مقامی آبادی کی زمینیں، مکانات، سڑکیں اور درخت شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ دریا اور ندی نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔
محکمہ موسمیات نے چھ سے پندرہ جولائی کے دوران گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ موسمیاتی بحران کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جن میں جنگلات کی کٹائی، زہریلی گیسوں کا اخراج اور سیمنٹڈ عمارتوں کی بے تحاشہ تعمیرات شامل ہیں۔
دوسری جانب گلیشیئرز کو بچانے اور جنگلات کی بحالی کیلئے کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا گلاف منصوبہ سالوں سے کانفرنسوں تک محدود ہے اور عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قدرتی ماحول سے انسانوں کی چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ نہ رکا تو خطے کو مزید شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔























